.

بیروت میں اسرائیلی ڈرون طیارے کا ہدف کیا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں دو اسرائیلی ڈرون طیاروں کے ذریعے بم باری کی منصوبہ بندی کی گئی۔ زیادہ تر معلومات میں غالب گمان ظاہر کیا گیا ہے کہ کارروائی کے اہداف میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کا میڈیا ریلشنز کا صدر دفتر شامل تھا۔ اس حوالے سے العربیہ کو موصول ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق "کارروائی میں اصل نشانہ الضاحیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے زیر انتظام ڈرون طیارے تیار کرنے والا ٹکنالوجی آپریشنز یونٹ تھا جو میڈیا ریلشنز کے صدر دفتر کے نزدیک واقع ہے"۔

معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں کارروائی سے چند گھنٹے پہلے اسرائیل نے دمشق کے مضافات میں واقع قصبے عقربا کو فضائی یلغار کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں حزب اللہ کے کے دو ارکان یاسر ظاہر اور حسن زبیب مارے گئے۔ یہ دونوں حزب اللہ کے ٹکنالوجی آپریشنز یونٹ کی ٹیم میں شامل تھے۔

اس سلسلے میں لبنان کی جانب سے کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔ حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں اعلان کیا گیا کہ بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں گرنے والا ڈرون طیارہ دھماکا خیز مواد کا حامل تھا۔ اس کا مقصد جاسوسی نہیں بلکہ ایک دھماکا خیز کارروائی کرنا تھا جس طرح کہ دوسرے ڈرون طیارے کے ساتھ ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل خصوصی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ڈرون طیاروں کو جس مقام سے کنٹرول کیا جا رہا تھا وہ زیادہ دور نہیں تھا۔ پہلے ڈرون طیارے میں 5.5 کلو گرام C4دھماکا خیز مواد موجود تھا اور اس مقدار کے ساتھ 4 کلو میٹر کی حدود کے اندر مختصر فاصلہ ہی طے کیا جا سکتا ہے۔

دھماکے کے بعد لبنانی سیکورٹی فورسز کے پہنچنے سے قبل حزب اللہ نے شواہد اکٹھے کرنے کی ذمے داری سنبھال لی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل خصوصی معلومات کے مطابق حزب للہ کی جانب سے جاری تحقیقات کا محور اپنی صفوں میں موجود ممکنہ ایجنٹ ہے جو اسرائیل کے لیے کام کر رہا ہے اور اسے معلومات فراہم کر رہا ہے۔ اس لیے کہ ڈرون طیارے تیار کرنے والے ٹکنالوجی آرپیشنز یونٹ کی موجودگی کا بہت کم ارکان جانتے ہیں جس سے اندرونی سطح پر سیکورٹی خلاف ورزی کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

معلومات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کے ٹکنالوجی آپریشنز یونٹ کے دھماکے کے بعد لبنان کے کئی علاقوں بالخصوص الضاحیہ میں موجود اپنے تنظیمی مراکز کو خالی کرا لیا۔ یہاں کام کرنے والوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔ مذکورہ مراکز میں موجود کمپیوٹروں سے تمام تر "ڈیٹا" بھی نکال لیا گیا۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں تنظیم کے گڑھ پر اسرائیلی حملے پر جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ نصر اللہ نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے امریکیوں سے بات چیت کرے۔