.

جنوبی یمن میں قیام امن کے لیے عرب اتحاد کےساتھ مل کرکام کر رہے ہیں:ھادی

جنوبی یمن میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے اثرات جلد دور ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ ایام میں جنوبی یمن کے علاقوں شبوۃ، عدن اور ابین میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور عبوری کونسل کی طرف سے بغاوت کی کوشش کے بعد پیدا ہونےوالی صورت حال پرسعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے ساتھ مل کرکام کررہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس سے ملاقات کے موقع پر صدر ھادی کا کہنا تھا کہ عدن، ابین اور شبوۃ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی روک تھام کے بعد ان واقعات کے اثرات دور کرنے کے لیے عرب بھائیوں کےساتھ مل کرکام کر رہےہیں۔

یمن کے آئینی صدر نے کہا کہ یمن کو فتح ونصرت سے ہمکنار کرنے اور عوام کی امنگیں پوری کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔

حالیہ ایام میں جنوبی یمن میں جو کچھ ہوا وہ قابل قبول نہیں۔ یمنی حکومت علاحدگی پسند عبوری کونسل کی بغاوت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونےوالی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد کےساتھ مل کر کام کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن میں امن وامان کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 اور خلیجی ممالک کی طرف سےپیش کردہ امن فارمولے پرعمل درآمد سے ممکن ہے۔

یمن کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق یو این ایلچی مارٹن گریفتیس نے صدر ھادی کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی طرف سے زبانی پیغام بھی پہنچایا جس میں انہوں نے یمن کی آئینی حکومت کی حمایت اور ملک میں امن وامان کے لیے مساعی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یمنی صدر منصور ھادی اور اقوام متحدہ کے ایلچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یمن کی مجموعی صورت حال، ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف جاری آپریشن اور حوثیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پربات چیت کی گئی۔