.

سعودی عرب میں ایڈوانس ٹیکنالوجی اورسائبرسیکیورٹی اکیڈمی کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایڈوانس ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی اکیڈمی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کا محکمہ دفاع سائبر سیکیورٹی کے میدان میں سائبر خطرات کی روک تھام میں خود کفیل ہوگیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے میدان میں سعودی عرب کا شمار عالمی سطح پر13 ویں نمبر پرہے جب کہ عالمی سطح پرسائبر سیکیورٹی کے خطرات کا درجہ 16 تک پہنچ گیا ہے۔

سوموار کے روز سعودی عرب کے 'سائبر سیکیورٹی، پروگرامنگ اینڈ ڈرونز ٹیکنالوجی' پروگرام سے وابستہ 100 نوجوانوں کی پاسنگ آئوٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مجموعی طور پراس پروگرام میں 32 ہزار امیدواروں نے شمولیت کی درخواست دی گئی تھی جن میں سے ایک سو کا انتخاب کیا گیا۔ تربیتی پروگرام 4 ماہ تک جاری رہا۔

سائبر سیکیورٹی پروگرام کے ایڈمنسٹریشن فیڈریشن کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے کہا کہ ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں میں ملازمت کی پیش کشوں کے 300 فی صد امکانات ہیں۔ ان کی اوسط تنخواہ 15 ہزار سعودی ریال تک ہوگی جب کہ سنہ 2030ء تک ہرپروگرام میں ایک سو سعودی شہریوں کو تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فضلاء مملکت میں مختلف سیکیورٹی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت حاصل کریں جس کے نتیجے میں بیرون ملک سے ماہرین منگوانے کی ضرورت نہیں رہےگی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الغامدی کا کہنا تھا کہ سائبر سیکیورٹی کے میدان میں ملک میں ملازمت کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ مملکت میں سائبر سیکیورٹی اور پروگرامنگ اکیڈمی شہزادی نورہ بنت عبدالرحمان کا سنہ 2020ء سے قیام سائبر سیکیورٹی کے میدان میں افراد کار ضرورت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر ملک بھر سے سائبر سیکیورٹی کے میدان میں امیدواروں کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں تو 32 ہزار افراد نے درخواست دی۔

سائبر سیکیورٹی کیمپ میں پہلی 10 پوزیشنیں حاصل کرنے والےامیدواروں میں ریم الزھرانی، محمد الشاوی، سارۃ القحطانی، مشاری مہدی، ریان نایتہ، باسل البراک، ھنوف الحربی، یونس نقیدا، عثمان العتیبی اور شذی الشمرانی شامل ہیں۔