.

ایران : بیوی کو قتل کرنے والے تہران کے سابق میئر کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے بدھ کے روز تہران کے سابق میئر محمد علی نجفی کو رہا کر دیا ہے۔ نجفی کو اپنی دوسری بیوی کو قتل کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی تھی تاہم مقتولہ کے اہل خانہ نے قاتل کو معاف کر دیا۔ سابق میئر کی رہائی عدالتی فیصلے پر ضمانت کے عوض عمل میں آئی۔

نجفی کے وکیل حمید رضا گودارزئی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کے 67 سالہ مؤکل کو تقریبا 2.4 لاکھ ڈالر کی ضمانت کے عوض رہا کیا گیا ہے۔

نجفی کو "بغیر لائسنس کا اسلحہ" رکھنے پر دو سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

محمد علی نجفی نے رواں سال 28 مئی کو تہران میں گھر کے اندر اپنی دوسری بیوی مِترا اوستاد (35 سالہ) کو سینے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

واقعے کے چند گھنٹوں بعد نجفی نے خود کو پولیس کے حوالے کر کے اعترافِ جرم کر لیا۔ البتہ اس موقع پر پولیس افسران اور اہل کاروں اور میڈیا کی جانب سے نجفی کے لیے دکھائی جانے والی گرم جوشی نے اس حوالے سے تنازع کھڑا کر دیا کہ سرکاری ذمے داران اور عام شہریوں کے ساتھ حکام کے برتاؤ کا دہرا معیار ہے۔

ایرانی قانون کے مطابق اگر کوئی شخص قتل کا ارتکاب کرتا ہے تو مقتول کے اہل خانہ کو قصاص طلب کرنے یا مالی دیت کے عوض معاف کر دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

دو ہفتے قبل مقتولہ مترا کے بھائی مسعود اوستاد نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر یہ اعلان کیا تھا کہ "ہم نے نجفی صاحب کو دیت کے مطالبے کے بغیر معاف کر دیا ہے"۔

اس طرح نجفی پھانسی کے پھندے کے علاوہ مقتولہ کے اہل خانہ کو دیت کی ادائیگی پر مجبور ہونے سے بھی بچ گیا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے نجفی کے وکیل کے حوالے سے بدھ کے روز بتایا کہ ان کے مؤکل کو "بیمار" ہونے کے سبب ضمانت پر رہا کیا گیا ہے تاہم اس کو ابھی تک غیر لائسنس شدہ آتشی ہتھیار رکھنے کے الزام کا سامنا ہے۔