.

سعودی شہری کی انڈونیشیا میں ملازمہ کی بیٹی کی شادی میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک شہری نے اپنی انڈونیشی ملازمہ کے ملک کا سفر کیا اور وہاں اُس کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کر کے ملازمہ کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعودی شہری احمد الغامدی نے بتایا کہ "یہ ملازمہ عموما اُس وقت اپنی خدمات پیش کرتی ہے جب میں اور میرے گھر والے اںڈونیشیا کا سفر کرتے ہیں۔ یہ کھانا بنانے کے علاوہ گھر کے دیگر انتظامی امور بھی انجام دیتی ہے۔ یہ بہت اچھے دل اور روح کی مالک ہے۔ جب اس نے مجھے اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے دعوت دی تو میں نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے بوقور شہر جانا قبول کر لیا۔ یہ میرا اس خوب صورت ملک کا 12 دورہ ہے"۔

شادی کی تقریب کے حوالے سے الغامدی نے بتایا کہ انڈونیشیا میں شادی کی رسومات صبح سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ہر لحاظ سے بہت سادہ سا طریقہ کار ہے۔ شادی کی تقریب کی جگہ پر 50 سے زیادہ افراد کی گنجائش نہیں ہوتی اور یہ سلسلہ شام 8 بجے تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران آنے والے مہمان دولہا دلہن اور دونوں کے خاندانوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ... سادگی اور مسکراہٹ یہ اس شادی کا عنوان ہے"۔

شادی میں شرکت کے بعد احمد الغامدی کی ایک وڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ شادی ہال کے اندر بچوں میں مالی رقوم تقسیم کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس وڈیو کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سعودی صارفین نے تنقید بھی کی۔ اس سلسلے میں الغامدی نے کہا کہ "یہ وڈیو کلپ بنانے والا شخص میرا ڈرائیور ہے۔ میری جانب سے ننھے بچوں میں نقدی تقسیم کرنے کا مقصد اس موقع پر ان بچوں کے دلوں میں مسرت ڈالنا تھا"۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر احمد الغامدی نے کہا کہ انڈونیشیا کے لوگ دنیا کی بہترین قوم اور سب سے زیادہ رواداری کے حامل عوام ہیں۔