.

'غزہ میں بم دھماکے'،فلسطینی حکومت نے حماس کے الزامات مسترد کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کی حکومت نے غزہ کی پٹی کی حکمراں حماعت کی طرف سے غزہ کے علاقے میں منگل کے روز ہونےوالے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ فلسطینی حکومت کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے فلسطینی جنرل انٹیلی جنس پرغزہ میں بم دھماکوں اور افراتفری پھیلانے میں ملوث ہونے کے الزامات باطل ہیں۔ فلسطینی انٹیلی جنس کا غزہ میں بدامنی پھیلانے میں ہاتھ نہیں۔

خیال رہے کہ منگل کے روز غزہ کی پٹی میں پولیس چوکیوں پر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم تین فلسطینی جاں بحق ہوگئےتھے۔ حماس نے ان دھماکوں کا الزام فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت انٹیلی جنس ادارے پرعاید کیا تھا۔

فلسطینی حکومت نے حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس اپنی ناکامیا چھپانے اور غزہ میں جرائم میں ملوث اصل عناصر پر پردہ ڈالنے کے لیے بھونڈی الزام تراشی کررہی ہے۔ غزہ میں بم دھماکے حالات کشیدہ کرنے اور امریکا اور اسرائیل کی فلسطینی قوم کے خلاف جاری سازشوں کے خلاف فلسطینیوں کی مساعی کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ حماس امریکا اور اسرائیل کے بجائے فلسطینی اتھارٹی پر بے جا الزام تراشی کر کے حقائق چھپانے کی مذموم کوشش کررہی ہے۔

فلسطینی حکومت نے ایک بار پھر حماس پر زور دیا ہے کہ وہ 10 دسمبر2017ء کو مصر کی ثالثی کے تحت طے پائے مصالحتی معاہدے پرعمل درآمد کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کا اقتدار قومی حکومت کے حوالے کرے۔