عدن میں عبوری کونسل اور آئینی حکومت میں شدید لڑائی

علاحدگی پسند عبوری کونسل کا عدن کے اہم علاقوں پرقبضے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں صدر عبد ربہ منصور ھادی کی حکومت اور علاحدگی پسند عبوری کونسل کے جنگجوئوں کے درمیان ایک بارپھر لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ دوسری جانب عبوری کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کونسل نے عبوری دارالحکومت کی کئی اہم کالونیوں اور حساس تنصیبات پر اپنا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز عبوری کونسل اور آئینی حکومت کی فورسز کے درمیان عدن میں کئی مقامات پرشدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔ لڑائی میں عدن بندرگاہ کے ڈائریکٹرسیکیورٹیئ کرنل ولید الجلد سمیت متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق زیادہ جھڑپیں المعلا، خور مکسر، دار سعد اور البریقہ میں ہوئیں جس کے بعد عبوری کونسل کے وفادار جنگجوئو نے علاقے پرقبضہ کرلیا۔ اس کے ساتھ ساتھ معسکر بدر، خور مکسر میں لڑائی کے بعد سیکڑوں افراد کو حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ عبوری کونسل لحج اور الضالع گورنریوں سے اپنے پاچ ہزار جنگجو عدن پرقبضے کے لیے لے کرآئی تھی۔

عبوری کونسل نے لحج میں الحوطہ اور عدن کو ملانے والی شاہراہ پراپنا عملہ تعینات کردیا ہے۔اس کے علاوہ عدن کے شمالی اور مغربی داخلی راستوں پربھی عبوری کونسل کا کنٹرول قائم ہے جب کہ مشرقی علاقے پرکنٹرول کے لیے عبوری کونسل نے اپنے جنگجو روانہ کردیے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عبوری انقلابی کونسل کے ماتحت مسلح افراد نے عدن میں بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کی ہے۔ انہوں نے آئینی حکومت کے وفاداروں کو حراست میں لینے کے لیے بڑے پیمانے پر چھاپے مارنے شروع کیے ہیں۔

ادھرعدن کے مشرق میں ابین گورنری کے دارالحکومت زنجبارپرآئینی حکومت نے کنٹرول سنھبال سنھبال لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں