عراق میں بدعنوانی کا خاتمہ اتنا دشوار کیوں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں سرکاری ذمے داران کی جانب سے بدعنوانی کے انسداد اور بدعنوانوں کے خاتمے کے حوالے سے وعدوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم عراقی حلقوں کی جانب سے ان وعدوں کا مذاق اڑاتے ہوئے عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عراقی سیاست دانوں اور مبصرین کا غالب گمان ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ ملک میں مالی اور انتظامی بدعنوانی کے انسداد کی قدرت نہیں رکھتی ہیں۔

عراق میں بدعنوانی کا معاملہ 2003 سے جاری پیچیدہ ترین معاملات میں سے ہے۔ اس مسئلے کو دہشت گردی سے زیادہ سنگین شمار کیا جا رہا ہے۔ اس میں متعدد گروپ ملوث ہیں جس نے اس معاملے کو انتظامیہ کے لیے خاردار جھاڑی بنا دیا ہے۔

عراقی پارلیمنٹ نے 2005 میں انتظامیہ سے متعلق کئی سرکاری اداروں کے لیے قوانین کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں حیدر العبادی کی حکومت کے دور (2014 -2018) میں بدعنوانی کے انسداد کے لیے ایک سپریم کونسل تشکیل دی گئی۔ یہ کونسل ابھی تک کام کر رہی ہے مگر آج تک بدعنوانی کا کوئی معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکا۔

عراقی کابینہ کے ایک ہفتہ وار اجلاس میں (جو ہر منگل کو منعقعد ہوتا ہے) عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اپنے ایک وزیر کی ریکارڈ شدہ ٹیپ پیش کی۔ اس ٹیپ میں وزیر موصوف اپنی وزارت کے ایک ڈائریکٹریٹ کا کوئی منصب ایک مخصوص سیاسی تاجر کو فروخت کر رہے ہیں۔ تاہم اس قطعی ثبوت کے باوجود محض مذکورہ وزیر کی توبیخ پر اکتفا کیا گیا اور یہ شواہد نگرانی کی متعلقہ ذمے دار اتھارٹی کے حوالے نہیں کیے گئے۔ یہ بات ایک حکومتی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتائی۔

رواں ماہ اگست کے دوران بدعنوانی کے انسداد سے متعلق سپریم کونسل نے ایک فیصلہ جاری کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق سوشل میڈٰیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ذمے داران کے خلاف الزامات کے حوالے سے شواہد اور ثبوت پیش کیے جائیں۔

دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ کی ایک خاتون رکن عالیہ نصیف نے انسداد بدعنوانی سے متعلق سپریم کونسل کے حالیہ فیصلے کے بارے میں کہا کہ یہ "بدعنوانوں کے لیے نجات کا طوق وسیع کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے"ـ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ارکان ملک میں اعلی ترین اتھارٹی کے نمائندگان ہوتے ہیں۔ ان کے پاس نگرانی کا کام انجام دینے کے حوالے سے آئینی اختیارات ہوتے ہیں۔ اس دوران تحقیقات اور پوچھ گچھ کے مختلف طریقوں سے شفاف احتساب ہو سکتا ہے۔ یہ اقدامات دنیا کی تمام پارلیمنٹوں میں اپنائے جاتے ہیں۔

عالیہ نصیف کے نزیدک بدعنوانی کے انسداد کی سپریم کونسل عوامی اتھارٹی کو کم کرنے اور آئین کے استخفاف کی کوشش کر رہی ہے۔ مثلا اس سے قبل وزارت دفاع کے معاملات انسپکٹر جنرل ، استغاثہ اور ٹرانسپیرنسی کمیٹی کو پیش کیے گئے ، تو پھر اس نئی کونسل کا کیا کردار ہوا ؟

ٹرانسپیرنسی کمیٹی میں سیاسی مداخلت اور عراق میں انسداد بدعنوانی پر کام کرنے کے حوالے سے اس کی عدم مہارت کے جواب میں کمیٹی کے سابق سربراہ حسن الیاسری نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ "کمیٹی نے عراقی ریاست کے زیادہ تر ذمے داران کے خلاف بدعنوانی کی فائلوں کو کھولا ، ان میں کچھ کا بے قصور ہونا ثابت ہو گیا اور کچھ کی فائل کو عدالت میں پیش کر دیا گیا"۔

الیاسری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ٹرانسپیرنسی کمیٹی نے ہزاروں فائلیں کھولیں جن میں عراق میں سیاسی پارٹیوں اور تحریکوں سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات شامل تھیں۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران کمیٹی کے زیر تحقیق کیسوں کی تعداد 29 ہزار سے زیادہ رہی۔ ان کیسوں میں 34 ہزار افراد پر الزام عائد کیا گیا۔ ان میں 48 موجودہ اور حالیہ وزراء، 48 ارکان پارلیمنٹ، 39 گورنر، صوبائی کونسلوں کے 438 ارکان اور 624 ڈائریکٹر جنرل شامل ہیں۔ اس دوران 50 کھرب عراقی دینار سے زیادہ کی رقوم کی واپسی اور حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ علاوہ ازیں غصب کی گئی درجنوں جائیداد اور املاک ریاست کی ملکیت میں واپس لوٹائی گئیں۔

دوسری جانب عراق میں اعلی تعلیم کے سابق وزیر اور سیاسی شخصیت علی الادیب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ "بدعنوانی کے خلاف جنگ کی صورت میں ملک میں چوٹی کی سیاسی شخصیات گرفت میں آ جائیں گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بعض سیاسی قوتیں بدعنوانی کی فائلیں کھولے جانے سے ڈرتی ہیں تا کہ سیاسی عمل اور اس کے ساتھ حکومت کا سقوط نہ ہو جائے"۔

البتہ پارلیمنٹ کے رکن احمد الکنانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے باور کرایا کہ حکومت عراق میں بدعنوانی کی اس عظیم الجثہ مچھلی کے سامنے کھڑے ہونے پر قادر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانوں کے کاندھوں پر سوار شخصیات تک پہنچنے بغیر عراق میں بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں مسئلہ سیاسی ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں بدعنوان عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں