عرب اتحاد کو درپیش خطرات کے تدارک کا حق حاصل ہے: متحدہ عرب امارات

ابو ظبی نے یمنی حکومت کی طرف سےعسکری مداخلت کے الزامات مسترد کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے یمن کی آئینی حکومت کی طرف سے عسکری مداخلت کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں عرب اتحاد کو درپیش خطرات کے خلاف لڑنے اور اس کے دفاع کے لیے ہراقدام کا حق حاصل ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی'وام' کے مطابق یمنی حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیان کے رد عمل میں ابو ظبی نے واضح کیا ہے کہ یمنی حکومت کے الزامات کے بنیاد ہیں۔ یمن میں دہشت گرد گروپوں کی طرف سے یمن میں امن کے قیام کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد اور سولین پرحملوں میں اضافہ کردیا ہے جس کے بعد امارات نے محدود پیمانے پر دہشت گردوں کے مراکز پر بمباری کی ہے۔ یہ بمباری انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق اور جنیوا معاہدوں کی روشنی میں کی گئی ہے۔

امارات وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدن میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی محاذ جنگ سے ملنے والی ٹھوس اور مصدقہ معلومات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ امارات نے یمن کی اس ملیشیا کے خلاف کارروائی کی ہے جو عرب اتحاد اور یمنی عوام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امارات نے عدن ہوائی اڈے پرحملہ کرنے والےایک دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے جس نے ہوائی اڈے پرحملہ کرکے عرب اتحادی فوج کے متعدد اہلکار زخمی کردیئےتھے۔ اس لیے ہمیں عرب اتحاد کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث ہرگروپ اور شخص کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔

امارات کا کہنا ہے کہ انٹیلی جس اداروں نے عدن میں دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ یہ کارروائی گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ریکی کے بعد کی گئی جس میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عدن میں انتشار اور افراتفری سے صرف ایرانی حمایت یافتہ حوثی دہشت گردوں کوفائدہ پہنچ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں گذشتہ روز ایک بارپھر متحدہ عرب امارات کی وفادار سمجھی جانے والی عبوری کونسل اور صدر عبد ربہ ھادی کی وفادار فوج کے درمیان گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ عبوری کونسل نے عدن میں کئی اہم مقامات اور تنصیبات پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں