مجاہدینِ خلق تنظیم ایران میں حکمرانی کی کتنی اہلیت رکھتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

امریکی جریدے نیوز ویک نے ایک طویل رپورٹ شائع کی ہے جس میں ایرانی اپوزیشن کی جماعت مجاہدین خلق اور تہران میں حکمراں نظام کی تبدیلی کی صورت میں اس کے ممکنہ نصیب پر روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل اور نیویارک کے سابق گورنر روڈی جولیانی نے تیرہ جولائی کو البانیا کے دیہی علاقے میں واقع مجاہدین خلق تنظیم کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ یہاں 3400 کے قریب ارکان تہران میں مذہبی حکومت کے نظام کے سقوط کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

جولیانی نے مجاہدین خلق تنظیم کے ارکان کو باور کرایا کہ ٹرمپ انتظامیہ ،،، تنظیم کو موجودہ نظام کا قابل قبول متبادل شمار کرتی ہے۔

اس سے قبل 2017 میں امریکی انتظامیہ کے ایک اہم رکن جان بولٹن نے (قومی سلامتی کے مشیر کا منصب سنبھالنے سے قبل) آخری مرتبہ پیرس میں ایک اجلاس کے دوران پرجوش انداز میں مجاہدین خلق کو ایرانی نظام کا بہترین متبادل قرار دیا تھا۔

مجاہدین خلق کا شمار ایرانی اپوزیشن کی اُن متعدد جماعتوں اور تحریکوں میں سب سے پرانی، بہترین اور مشہور ترین تنظیم کے طور پر ہوتا ہے جو اپنا باری کا انتظار کر رہی ہیں۔

دیگر جماعتوں میں سے ایک اور جماعت شاہی نظام کی ہے۔ اس کی قیادت معزول شاہ ایران کے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے ایک عبوری حکومت تشکیل دینے کی امید رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایک جمہوری طریقے پر انتخابات کا اجرا ممکن ہو جائے۔

اس سے پہلے رواں سال کے دوران ٹرمپ انتظامیہ یہ کہہ چکی ہے کہ مجاہدین خلق تنظیم کو موجودہ نظام کے موزوں متبادل کے طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اسی دوران سینئر امریکی ذمے داران یہ باور کرا چکے ہیں کہ ٹرمپ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے کوشاں نہیں ہیں۔ ذمے داران کے مطابق انتظامیہ نے اس وقت ٹرمپ کی جانب سے تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد ایرانی نظام کو اُس معاملے پر مذاکرات کے لیے مجبور کرنا ہے جسے امریکی ذمے داران "رویے کی تبدیلی" کا نام دیتے ہیں۔

خواہ نظام تبدیل ہو یا نہ ہو ایرانی اپوزیشن جماعتیں منقسم ہی رہیں گی۔ ایرانی ماہرین کے نزدیک یہ امر ان کے اقتدار سنبھالنے کے مواقع سبوتاژ کر رہا ہے۔ گزرے سالوں کے دوران ایرانی اپوزیشن کی کئی جماعتوں نے ایک متحدہ محاذ بنانے کی کوششیں کیں مگر یہ کوششیں تاریخ، ایجنڈوں اور اسی طرح شخصیات کے تصادم کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئیں۔

بہرکیف ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کی نوعیت مختلف ہے۔ ایران میں اقتصادی مسائل بدترین صورت اختیار کر چکے ہیں اور حکمراں نظام ایک اور انقلاب کے خوف سے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات سے گریز کر رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کے بس میں اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ ان رویوں کی تبدیلی پر مذاکرات کرے جس کا مطالبہ ٹرمپ اس سے کرتے ہیں یا پھر اپنے ملک کی معیشت کو زمین بوس ہوتا دیکھے۔ ایک نئی سوئس انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایرانی رہ نما نومبر 2020 کے امریکی انتخابات کا انتظار کریں گے۔ اس امید کے ساتھ کہ ٹرمپ کو شکست ہو گی اور ڈیموکریٹک انتظامیہ آ کر 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت پھر سے پابندیاں اٹھا دے گی۔

کئی تجزیہ کاروں کے نزدیک موجودہ کشیدگی آرام کے ساتھ ایک مسلح تنازع اور تہران کے نظام کے سقوط تک بڑھ سکتی ہے۔

مجاہدین خلق تنظیم کئی برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپوزیشن کی مرکزی آواز بنی رہی۔ گزشتہ عشرے کے دوران مجاہدین خلق تنظیم کی قیادت اور اس کے حامیوں نے تنظیم کو ایک ڈیموکریٹک سیکولر تنظیم کے طور پر پیش کیا جس کو ایران کے اندر وسیع عوامی مقبولیت حاصل ہے۔

مجاہدین خلق تنظیم سب سے زیادہ تنازعات کو جنم لینے والی جماعت بھی شمار ہوتی ہے۔ کئی سابق امریکی ذمے داران اور ایرانی ماہرین کو تنظیم کی جمہوری اہلیت پر شکوک و شبہات ہیں۔

مجاہدین خلق تنظیم 1965 میں ایرانی طلبہ کی جانب سے تشکیل دی گئی تھی۔ انہوں نے شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کی مخالفت کی جس کو امریکا نے قائم کرایا تھا۔ مجاہدین خلق کے ارکان نے مارکسزم اور اسلام کے درمیان ایک انوکھا مرکب اپنایا۔ یہ اپوزیشن کی پہلی جماعت تھی جس نے شاہ ایران اور مغرب میں اس کے حامیوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق مجاہدین خلق نے گذشتہ صدی میں 1970 کی دہائی میں تین امریکی فوجی افسران اور تین امریکی کنٹریکٹرز کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کے علاوہ تنظیم نے امریکی کمپنیوں کی کئی تنصیبات کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں تنظیم کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے متعلق امریکی بلیک لسٹ میں آ گیا۔

مجاہدین خلق تنظیم نے 1979 میں شاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے والے انقلاب کے سرخیل خمینی کی بھی حمایت کی۔ تنظیم نے امریکی سفارت خانے پر قبضے کی کارروائی کو سپورٹ کیا مگر پھر امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے فیصلے کے سبب خمینی سے علاحدگی اختیار کر لی۔ سال 1981 میں خمینی کی حکومت کے خلاف ناکام مزاحمت کے بعد مجاہدین خلق تنظیم کے ارکان نظروں سے روپوش ہونے پر مجبور ہو گئے۔ تنظیم کا رہ نما جوڑا مسعود اور مریم رجوی گرفتاری سے بچنے کے لیے پیرس فرار ہو گئے۔

سال 1980 میں شروع ہونے والی عراق ایران جنگ نے مجاہدین خلق تنظیم کو اپنی حکومت کے خلاف لڑنے کا ایک اور موقع دیا۔ تنظیم نے صدام حسین کے ساتھ اتحاد کر لیا اور مجاہدین خلق کے تقریبا 7 ہزار ارکان کو عسکری تربیت کے لیے عراق بھیجا گیا۔ ان ارکان نے جنگ کے دوران ایران کے خلاف کئی معرکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1988 میں تنظیم نے حکمراں نظام کے سقوط کے لیے مسلح حملہ کیا مگر اسے ایک بڑی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا اور وہ اپنے 3 ہزار فوجی اہل کاروں سے محروم ہو گئی۔


اس مسلح حملے کے نتیجے میں ایران مجاہدین خلق کے ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مجبور ہو گیا۔ کئی آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طویل اور خون ریز جنگ کے دوران صدام حسین کے ساتھ اتحاد نے مجاہدین خلق تنظیم کو زیادہ تر ایرانیوں کی نظر میں ایک "غدار" جماعت بنا دیا۔

سال 2003 میں امریکی فوج کے ہاتھوں صدام کی حکومت کے خاتمے اور عراق پر قبضے کے بعد مجاہدین خلق تنظیم کو غیر مسلح کر دیا گیا اور اس کے 3400 ارکان کو امریکا کی حفاظت میں دے دیا گیا۔ اسی سال مسعود رجوی روپوش ہو گیا اور تنظیم کی قیادت انفرادی طور پر مریم رجوی نے سنبھال لی۔

مریم نے 2009 میں پیرس میں رہتے ہوئے کروڑوں ڈالر کی ایک مہم کا آغاز کیا تا کہ مجاہدین خلق تنظیم کا نام دہشت گردی سے متعلق واشنگٹن کی بلیک لسٹ سے ختم کیا جا سکے۔ غیر ملکی دہشت گرد تنظیم شمار ہونے کے باوجود مجاہدین خلق نے واشنگٹن میں اعلانیہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ تنظیم نے امریکا کی نمایاں سیاسی اور عسکری شخصیات کو خطاب کے عوض 50 ہزار ڈالر تک کی رقم ادا کرنا شروع کر دی۔ اس طرح خطاب کرنے والوں میں جان بولٹن اور روڈی جولیانی کے علاوہ کئی اہم سیاسی اور عسکری شخصیات شامل ہو گئیں۔

اس دوران مجاہدین خلق انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بن گئے۔

سال 2011 میں عراق میں ایران کی ہمنوا ملیشیا نے مجاہدین خلق کے تقریبا 140 ارکان کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے مزید ہلاکتوں سے گریز کے 2012 میں تنظیم کا نام دہشت گرد جماعتوں کی بلیک لسٹ سے خارج کر دیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں مجاہدین خلق کے ارکان کے البانیا میں عسکری کیمپ منتقل ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔

ایسے وقت میں جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف اقتصادی گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ شاہ ایران کے ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے تہران میں حکمراں نظام کے خلاف بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی قیادت کے سائے میں متحد ہو جائیں تا کہ ایک جمہوری ایران کا ویژن حقیقت کا روپ دھار سکے۔

اگرچہ 58 سالہ پہلوی واشنگٹن کے نزدیک رہتے ہیں تاہم وہ خارجہ سیاسی حلقوں میں ایک غیر مانوس شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی شخصیت کشش اور عزیمت سے خالی ہے۔

ایرانی اپوزیشن میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو حکمراں نظام کے خلاف عملی طور پر معرکہ آرائی میں مصروف ہیں۔ ایران میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والوں میں ملک کے شمال مغرب میں کرد اور آذربائیجانی، جنوب مغرب میں عرب اور جنوب مشرق میں بلوچ ہیں۔ یہ تمام لوگ اپنے علاقوں میں خود مختاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران ایرانی کردستان میں کومالا پارتی نے مذکورہ مختلف گروپوں کو یکجا کرنے کی کوششوں کی ذمے داری سنبھالی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد موجودہ مذہبی نظام کو ایک مرکزی وفاقی حکومت سے بدل دینے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو ملک میں تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

کومالا پارٹی کے رہ نما مہتدی کا کہنا ہے کہ جلد یا بدیر یہ نظام ختم ہو جانا ہے۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اس سقوط کے نتیجے میں نسلی بنیاد پر ملک کی مختلف حصوں میں تقسیم کے امکان سے بچا جا سکے۔ مہتدی نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ رابطے کریں تا کہ آنے والے مرحلے کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں