یمنی حکومت کی اماراتی بم باری پر گفتگو ، ابوظبی کے ذمے دار کی واقعے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کیا واقعتا متحدہ عرب امارات نے عدن میں آئینی حکومت کی فورسز کو بم باری کا نشانہ بنایا ؟ اس حوالے سے متضاد خبریں گردش میں ہیں۔ اس حوالے سے ابھی تک یمنی حکومت کا جواب "ہاں" میں ہے تاہم اماراتی ذمے دار نے اس کی "نفی" کی ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اماراتی لڑاکا طیاروں نے جمعرات کی صبح عدن میں آئینی حکومت کی فورسز پر بم باری کی۔

اس سلسلے میں یمنی حکومت کی جانب سے جمعرات کو رات گئے وزیر اطلاعات کے ذریعے سرکاری بیان جاری کیا گیا۔ اتحادی ممالک یا متعلقہ بین الاقوامی فریقوں میں سے کسی کی طرف سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

خبروں سے متعلق ویب سائٹ "اِرم نيوز" کے مطابق اماراتی ذرائع نے عدن کے مشرق میں اماراتی فضائی حملے میں یمنی حکومتی فورسز کے نشانہ بننے کے حوالے سے زیر گردش خبر کی تردید کی ہے۔ ادھر یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سبا" نے بم باری کے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم علاحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ آئینی حکومت عدن پر اپنے حملے کی ناکامی اور فائر بندی کی عدم پاسداری کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سبا نیوز ایجنسی کے مطابق یمنی وزارت خارجہ نے امارات سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست اور قانون کے اختیار سے خارج تمام عسکری تشکیلوں کے لیے ہر طرح کی مالی اور عسکری سپورٹ کا سلسلہ روک دیا جائے۔

یمنی حکومت نے ایک بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی قرار دادوں کے مطابق یمنی اراضی کے امن و امان اور اس کی وحدت و سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ اسی طرح سعودی عرب پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ آئینی حکومت کے ساتھ کھڑا ہو اور غیر قانونی جارحیت کا سلسلہ روک دیا جائے۔

نیویارک میں العربیہ کو اقوام متحدہ کے اس بیان کے مسودے کی کاپی مل گئی جس میں یمن کے جنوب میں پرتشدد واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔ تاہم بیان میں فضائی بم باری اور فریقین کے بیچ زمین پر جاری تنازع پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ بیان میں جس کا اعلان بعد ازاں متوقع ہے تمام لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بات چیت کا سہارا لے کر اپنے کیے ہوئے عہد کا احترام کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں