سوڈان: عمر البشیر پر غیر قانونی دولت رکھنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خرطوم میں آج ہفتے کے روز سوڈان کے معزول صدر عمر البشیر کے خلاف مقدمے کی تیسری سماعت کا آغاز ہوا۔ یہ مقدمہ البشیر کی قیام گاہ سے ملنے والی اشیاء اور مالی رقوم سے متعلق ہے۔

عدالت نے البشیر پر دو الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات غیر قانونی طور پر غیر ملکی رقوم قبضے میں رکھنے اور غیر قانونی دولت جمع کرنے کے حوالے سے ہیں۔

عدالت کے جج الصادق عبدالرحمن نے البشیر کو بتایا کہ اُن پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ 16 اپریل 2019 کو البشیر کے گھر کے اندر سے 69 لاکھ یورو، 351770 امریکی ڈالر اور 57 لاکھ سوڈانی پاؤنڈز برآمد کیے گئے۔ یہ رقوم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئیں۔

دوسری جانب البشیر کی دفاعی کمیٹی کا کہنا ہے کہ معزول صدر "بے قصور" ہیں۔ البشیر کے وکیل کے مطابق ان کی جانب سے دفاع کے لیے عینی شاہدین آئندہ سماعت میں پیش ہوں گے۔

اس موقع پر جج نے ضمانت پر البشیر کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالتی کارروائی کے دوران عمر البشیر نے اس بات کا اقرار کیا کہ انہوں نے غیر ملکی ذمے داران سے مالی رقوم وصول کیں تاہم البشیر کے مطابق انہوں نے اس رقم میں ذاتی طور پر کوئی تصرف نہیں کیا۔ البشیر نے باور کرایا کہ انہوں نے Rapid Support فورس کو 50 لاکھ ڈالر کی رقم حوالے کی تھی اور دستاویزات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

سوڈان کے معزول صدر کے وکیل محمد الحسن الامین اس سے پہلے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو دیے گئے بیان میں بتا چکے ہیں کہ البشیر کے قبضے سے برآمد ہونے والی مالی رقوم سربراہان کے درمیان تعاون کے سلسلے میں "بطور عطیات" پیش کی گئی تھیں۔ الامین کے مطابق عمر البشیر نے اس رقم میں تصرف کیا مگر اس میں سے ایک ڈالر بھی خود نہیں لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں