سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے پاس داعش کا ایک جلاد گرفتار ہے: بیلجیئن اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے مسلح تنظیم داعش کے ایک اہم رکن کو پکڑ لیا ہے۔ یہ بات بیلجیم کے اخبار De Morgen نے جمعے کے روز شائع ایک مضمون میں بتائی۔

اخبار کے مطابق گرفتار ہونے والا بیلجیم کا شہری ہے۔ اس کا نام انور ہدوشی ہے اور وہ "الرقہ میں داعش کے جلاد" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اخبار نے بتایا ہے کہ 35 سالہ انور ہدوشی عُرف "ابو سليمان البلجيكی" گذشتہ موسم خزاں سے شمالی شام میں ایس ڈی ایف کی ایک جیل میں قید ہے۔ اس سے قبل وہ اور اس کی بیوی جولی مائس (23 سالہ) باغوز قصبے پر حملے کے دوران سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے عناصر کے قبضے میں آ گئے تھے۔

انور ہدوشی پر الرقہ میں 100 سے زیادہ افراد کی سزائے موت پر عمل درامد کا الزام ہے۔

اس سے قبل الرقہ کی شہری کونسل میں عدالتی کمیٹی کے سربراہ ایڈوکیٹ ابراہیم الفرج نے بیلجیم کے اخبار La Libre Belgique کو بتایا تھا کہ ابو سلیمان البلجیکی لوگوں کی گردن اڑانے میں ماہر ہے۔ اس نے الرقہ میں مرکزی بازار کے میدان میں لوگوں کی گردنیں اڑانے کے دوران مقامی آبادی کو مجبور کیا کہ وہ اس کا نشانہ بننے والوں کو دیکھیں۔

فرانس اور بیلجیم کے سیکورٹی حکام کے خیال میں ہدوشی برسلز اور پیرس میں دہشت گرد حملوں کی فنڈنگ میں ملوث ہے۔

بیلجیم کے مذکورہ اخبار کے مطابق ہدوشی کے سُسر کا کہنا ہے کہ جب ان کی اپنے ہونے والے داماد سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس وقت وہ برسزل میں ڈی جے اور بریک ڈانسر کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ جوڑا 2009 میں برطانیہ منتقل ہو گیا اور پھر 2014 میں اپنے دو بچوں کے ساتھ شام کوچ کر گیا۔

اخبار کے مطابق بیلجیم کے حکام نے 2016 میں انور ہدوشی کا نام دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر کے اس کے اور اس کی بیوی کے اثاثے منجمد کر دیے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ہدوشی کے خلاف عدالتی کارروائی کس ملک میں ہو گی۔ اگر یہ کارروائی عراق میں ہوئی تو اسے سزائے موت کا سامنا ہو گا جس طرح اس سے قبل داعش کے دو بیلجیئن مسلح ارکان کے ساتھ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں