صنعاء: حوثی ملیشیا نے بے گھر شہریوں کے لیے مختص امداد ہتھیا لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے بے گھر شہریوں کے لیے مختص انسانی امداد کی بڑی مقدار ضبط کر لی۔ اس اقدام کا مقصد اپنے زیر قبضہ دارالحکومت صنعاء میں یہ امداد اپنے ہمنوا عناصر میں تقسیم کرنا اور اسے تجارتی مراکز اور دکانوں کے مالکان کو فروخت کرنا ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ باغی حوثی ملیشیا انسانی امداد کے اس بڑے حجم کو اپنی قیادت کے زیر انتظام ڈپوؤں میں رکھتی ہے۔

دارالحکومت صنعاء میں شہریوں نے حوثی قیادت پر الزام عائد کیا کہ وہ غذائی امداد لُوٹنے کے بعد دکانوں کے مالکان کو بیچ دیتے ہیں یا پھر اپنے ہمنوا عناصر میں تقسیم کر دیتے ہیں ،،، وہ بھی ایسے وقت میں جب یمن کے شہریوں کی بڑی تعداد کو سخت حالات اور دشوار معاشی صورت حال کا سامنا ہے۔

اس سے قبل عالمی خوراک پروگرام نے بھی حوثی ملیشیا پر انسانی امدادات لوٹ لینے کا الزام لگایا تھا۔ اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں ادارے نے کہا تھا کہ حوثی ملیشیا "بھوکے لوگوں کے مُنہ سے یہ امداد نوچ رہی ہے"۔

دارالحکومت صنعاء میں یمنی شہریوں کو روزگار کے مواقع نہ ہونے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے علاوہ اشیاء کی قیمتیں اور بنیادی خدمات کے نرخ بڑھ جانے کے سبب سنگین معاشی حالات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2014 کے اواخر میں آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد حوثی ملیشیا کی جانب سے چھیڑی جانے والی جنگ کے وقت سے یمن کو دنیا کے بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ یمن کی مجموعی آبادی یعنی 2.41 کروڑ افراد میں سے 80 فی صد کے قریب لوگوں کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں