عراق ہتھیاروں کا ڈپو نہیں: عمار الحکیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں الحکمہ گروپ کے سربراہ عمار الحکیم کا کہنا ہے کہ عراق ہتھیاروں کا کوئی ڈپو نہیں ہے۔ انہوں نے عراقی ریاست کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسی کسی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جائے جس کا مقصد ریاست کو نقصان پہنچانا ہو۔

الحکیم نے جمعے کے روز قومی اپوزیشن محاذ کی تشکیل کا اعلان بھی کیا۔ مذکورہ محاذ ملک میں حزب اختلاف کی پہلی کابینہ (Shadow Cabinet) کا اعلان کرے گا۔ الحکیم کے مطابق یہ محاذ عراقی عوام کے مفادات کے مطابق صحیح راستے کا تعین کرے گا۔

ادھر عراقی صدر برہم صالح یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک دوسروں کے تنازعات کے خاتمے کا میدان نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے تین ستون اور بنیادی قوتیں یہ باور کراتی ہیں کہ ریاست کا مرجع قانون کی بنیاد اور بالا دستی ہے۔

برہم صالح نے یہ بات بغداد میں انسداد دہشت گردی فورسز کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔ البتہ ایران نواز ملیشیائیں ریاست کے فیصلوں پر بغاوت کے لیے مصر ہیں۔

گذشتہ چند روز کے دوران عراق میں وسیع تنازعے کی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ پیش رفت الحشد الشعبی ملیشیا کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی۔ متعدد رپورٹوں اور خود اسرائیلی وزیراعظم کے عندیے کے مطابق ان کارروائیوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ اس کی وجہ ایران نواز ملیشیاؤں کی تہران کے لیے وفاداری ہے خواہ یہ ملیشیائیں عراق، شام یا پھر لبنان میں ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں