یمن: تعز کے مشرق میں حوثیوں کے ہاتھوں صحافی کا اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے صحافیوں کے خلاف کارستانیوں اور ان کی زبانوں کو خاموش رکھنے کے لیے اوچھے حربوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کے روز حوثیوں نے تعز شہر میں اپنے زیر قبضہ علاقے میں ایک اور صحافی کو اغوا کر لیا۔

یمنی صحافیوں کی انجمن کے مطابق اسے یہ اطلاع ملی تھی کہ صحافی ایہاب الشوافی کو تعز صوبے کے علاقے الحوبان میں حوثیوں کے ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ انجمن نے مزید بتایا کہ الشوافی کو اُس وقت اغوا کیا گیا جب وہ صنعاء جانے کے لیے راستے میں تھا۔ بعد ازاں اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

صحافیوں کی انجمن کی جانب اس واقعے کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ الشوافی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور صحافیوں کو ان کی پیشہ وارانہ شناخت کے سبب نشانہ نہ بنایا جائے۔ انجمن کے مطابق صحافی الشوافی کی سلامتی کی تمام تر ذمے داری حوثی ملیشیا پر عائد ہوتی ہے۔

یمن میں پانچ برس قبل حوثی ملیشیا کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے صحافت کے شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس دوران ذرائع ابلاغ کے میدان میں کام کرنے والوں کو غیر معمولی کارستانیوں کا نشانہ بننا پڑا۔ ان میں قید، اغوا، جسمانی تشدد ، حملے اور قتل کی کارروائیاں شامل ہیں۔

صنعاء میں اب بھی دس صحافی تین برس سے حوثی ملیشیا کی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ انہیں تشدد اور اذیت رسانی کے نتیجے میں موت کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ لوگ اپنے اہل خانہ کی ملاقات اور علاج اور خوراک حاصل کرنے سے بھی محروم ہیں۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز" کی جانب سے تیار کردہ آزادی صحافت کی عالمی فہرست میں کُل 180 ممالک میں یمن کا 168 واں نمبر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں