.

اسرائیلی فوج کا لبنان کے ساتھ سرحدی علاقے میں مزید نفری تعینات کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ سے کشیدگی میں اضافے کے بعد لبنان کے ساتھ واقع اپنی شمالی سرحد پرمزید نفری تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کی برّی فوج ، فضائیہ ، بحریہ اور انٹیلی جنس فورسز نے شمالی کمان کے علاقے میں مختلف منظرناموں کی صورت میں اپنی تیاریوں کو بہتر بنا لیا ہے اور اس ضمن میں گذشتہ ہفتے اقدامات کیے گئے ہیں۔

صہیونی فوج نے مزید کہا کہ’’ریزرو فوجیوں کو ان کی تعیناتی کے وقت سے متعلق ایک پیغام موصول ہوچکا ہے۔‘‘ اس نے ٹویٹر پر ٹینکوں اور بری فورسز کی نقل وحرکت اور تعیناتی کی فوٹیج بھی پوسٹ کی ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گذشتہ اتوار کو بیروت کے نواح میں ایک ڈرون حملے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے ۔اسرائیل کے ایک سکیورٹی عہدے دار کے مطابق اس حملے میں گائیڈڈ میزائلوں کے ایک منصوبے یا ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حزب اللہ نے اسرائیل پر بیروت کے نواح میں اس ڈرون حملے کا الزام عاید کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ وہ اس کا بدلہ چکائے گی۔اس نے لبنانی دارالحکومت کے نواح میں میزائلوں کی تیاری کی تنصیبات کی موجودگی سے بھی انکار کیا تھا۔لبنان نے اسرائیل پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ جارحیت کے لیے موقع کی تلاش میں ہے ۔

اسرائیل نے اس ڈرون حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا مگر اس نے ایران کی جانب سے حزب اللہ کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے گائیڈڈ میزائل مہیا کرنے سے متعلق جامع مہم کی تفصیل جاری کی تھی۔ حزب اللہ کے پاس اس طرح کے میزائل اسرائیل کی مکمل فوجی برتری کا کسی حد تک توڑ ہو سکتے ہیں۔

حزب اللہ کے المنار ٹی وی چینل اور عسکری ذرائع کے مطابق تنظیم نے جمعہ کے روز گذشتہ اتوار کو بیروت کے نواح میں گرنے والے دو ڈرون لبنانی فوج کے حوالے کردیے ہیں۔اس نئی کشیدگی کے تناظر میں صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان ، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور ایران کی القدس فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے ’قول وفول‘ میں محتاط رہیں۔‘‘