.

کسی گروپ کا جنگ سے متعلق انفرادی فیصلہ کرنا لبنان کے مفاد میں نہیں : عرب لیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عرب لیگ کے جنرل سکریٹریٹ میں ایک ذمے دار ذریعے نے بتایا ہے کہ لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط لبنان اور سرائیل کے بیچ سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے تبادلے سے متعلق پیش رفت کا تشویش کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ کسی بھی فریق یا گروپ کا جنگ سے متعلق انفرادی فیصلہ لبنانی ریاست اور عوام کے مفاد میں ہر گز نہ ہو گا۔

احمد ابو الغیط نے باور کرایا کہ عرب لیگ کسی بھی جانب سے جارحیت کی صورت میں لبنان کی ریاست کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیلی ردود عمل کو قابو میں رکھنے کی ذمے دار ہے ، یہ ردود عمل اندرونی انتخابات کی غرض سے امور کو مزید جارحیت کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے بعد لبنان اور اسرائیل کے بیچ سرحد پر کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے امریکا کو تشویش ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے ایک ذمے دار کی زبانی باور کرایا کہ امریکا خود کا دفاع کرنے سے متعلق اسرائیل کے حق کو مکمل سپورٹ کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق حزب اللہ پر لازم ہے کہ وہ ایسی دشمنانہ کارروائیوں سے رک جائے جس کا مقصد لبنان کے امن، استحکام اور خود مختاری کو خطرے میں ڈالنا ہو ... یہ امر خطے میں امن و سلامتی کو سبوتاژ کرنے کے ذریعے ایران کے ایجنٹوں کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک اور مثال ہے۔

اسرائیل نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی اراضی کی جانب ٹینک شکن میزائل داغے جانے کے بعد اس نے لبنان کے جنوبی علاقوں پر بم باری کی۔ ادھر حزب اللہ تنظیم نے اتوار کے روز بتایا کہ لبنان کی جنوبی سرحد کے نزدیک افیفیم کے علاقے میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی تباہ کر دی گئی۔