.

ہم 15 ارب ڈالر حاصل ہونے کی صورت میں جوہری معاہدے کی پاسداری کریں گے : ايران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایرانی ذمے دار نے بدھ کے روز باور کرایا ہے کہ تہران 4 ماہ میں تیل کی فروخت کے 15 ارب ڈالر حاصل کرنے کی صورت میں ہی جوہری معاہدے کی پاسداری کی طرف لوٹے گا۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتائی۔

فرانس نے رواں سال کے اختتام تک ایران کو تیل کی آمدنی کی ضمانت کے حوالے سے تقریبا 15 ارب ڈالر پیش کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے مقابل تہران کو 2015 میں طے پائے گئے جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی طرف واپس آنا ہو گا۔ تاہم یہ پیش کش واشنگٹن کی عدم مخالفت پر موقوف ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ "جوہری معاہدے کی طرف ہماری واپسی 4 ماہ تک 15 ارب ڈالر کے حصول کے ساتھ مشروط ہے ، اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ایران کی جانب سے پاسداریوں کو کم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس سے قبل منگل کے روز ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ اگر یورپی ممالک حرکت میں نہ آئے تو ایران معاہدے کی بعض شرائط سے دست بردار ہونے پر مجبور ہو جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی شرائط پرعمل درامد سے دست برداری کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات ختم ہوجائیں گے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ISNA نے ظریف کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر روحانی عن قریب پاسداری میں کمی کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔

اس سلسلے میں فرانس کے ایک سفارتی ذریعے نے منگل کے روز کہا کہ اگر ایران نے رواں ہفتے کے اختتام پر جوہری معاہدے میں درج پاسداریوں میں کمی کے حوالے سے ایک بار پھر کوئی فیصلہ کیا تو تہران ایک "برا اشارہ" بھیجے گا۔ ذریعے نے مزید کہا کہ اس طرح کا فیصلہ ایران اور امریکا کے بیچ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے عمل کو زیادہ پیچیدہ بنا دے گا۔