.

داعش کے روپوش سربراہ ابوبکرالبغدادی علیل ہیں: عراقی جوڈیشیل کونسل

البغدادی شام کے سرحدی علاقے میں مقیم تھے،عرب اورغیرملکی لیڈروں نے ان کے خلاف بغاوت کی تھی: چچازاد بھائی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے روپوش سربراہ علیل ہوگئے ہیں۔عراقی نیوز ایجنسی نے عراق کی عدالتی کونسل کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔

کونسل نے البغدادی کے چچازاد رباح علی ابراہیم علی البدری کے عدالت کے روبرو اعترافی بیانات کی تفصیل جاری کی ہے۔رباح نے ابوبکرالبغدادی کے ساتھ گزرے وقت اور داعش کی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کی تفصیل بیان کی ہے۔

البدری نے بتایا:’’ میں اور ابوبکر ساتھ ساتھ پلے بڑے تھے۔اسّی کی دہائی میں ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے تھے جب ابوبکر ڈاکٹر آف فلاسفی کی تعلیم کے لیے بغداد چلے گئے تھے اور وہاں سے انھوں نے پی ایچ ڈی کی تھی۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’جب خلافت نے بعض صوبوں اور شہروں میں اپنے کنٹرول کااعلان کیا تومیرے چھے میں سے تین بچّوں نے داعش کی بیعت کر لی تھی کیونکہ ان علاقوں کے بیشتر شہریوں نے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘

البدری نے عراق میں انٹیلی جنس سے متعلق کیسوں کی سماعت میں مہارت رکھنے والے ایک جج کے روبرو یہ بیان دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ داعش کے کنٹرول والے علاقوں میں شعبہ زراعت میں کام کرتے تھے۔انھوں نے داعش کی خودساختہ خلافت کے لیے زراعت کی اہمیت بتائی ہے۔

ان سے جب داعش کے زیر قبضہ علاقوں پرعراقی فورسز کے کنٹرول کے بعد البغدادی سے آخری ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ’’ ہمیں ان کے بھائی کی جانب سے بہت سے انتباہ کیے گئے تھے۔یہ بھائی ابوبکر کے سکیورٹی گارڈ تھے اور وہی انھیں سکیورٹی فورسز سے تحفظ دینے کے ذمے دار تھے۔اس لیے پھر میں نے ان سے رابطے کی کوشش نہیں کی۔‘‘

البدری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ’’البغدادی کے بھائی ایک روز آئے اور مجھے ایک نامعلوم جگہ پر لے گئے۔البغدادی ایک چھوٹے سے گھر میں رہ رہے تھے اور وہ جگہ 150 میٹر سے زیادہ نہیں تھی۔‘‘

البدری نے اپنی ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں نے انھیں ( ابوبکرکو) ان کی روپوشی سے ریاست کے اندر رونما ہونے والے اختلافات کے بارے میں بتایا تو وہ یوں گویا ہوئے کہ وہ جو کچھ بھی رونما ہورہا ہے،اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔انھوں نے عرب اور غیرملکی لیڈروں کی بغاوت کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ یہ زیادہ تر تیونسی تھے،جو تنازع کو ہوا دے رہے تھے اور یہ دعوے کررہے تھے کہ اب خلافت کا وجود نہیں رہا ہے۔‘‘

البدری کا کہنا تھا کہ ’’اس ملاقات میں ابوبکر البغدادی تھکے تھکے نظر آرہے تھے ۔وہ کان کی سرجری کی وجہ سے درد میں مبتلا تھے۔شام کے سرحدی ضلع البوکمال میں ان کے بائیں کان کی سرجری ہوئی تھی۔‘‘

انھوں نے داعش کے لیڈر کی جائے قیام کے بارے میں بتایا کہ ’’وہ شام کے سرحدی قصبے الشعفہ سے کوئی زیادہ دور نہیں تھی۔ہم دس سے پندرہ منٹ میں ان کے گھر پہنچ گئے تھے۔اس کا یہ مطلب تھا کہ وہ بدستور اسی سرحدی علاقے میں موجود تھے۔‘‘