.

یہ وقت بات چیت کا نہیں بلکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کا ہے : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر مزید "دباؤ" ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیتن یاہو نے یہ بات لندن روانہ ہونے سے قبل دیے گئے ایک بیان میں کہی۔ وہ لندن میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور امریکی وزیر دفاع ماریک ایسپر سے ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ وقت ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے مناسب نہیں بلکہ یہ تہران پر دباؤ بڑھا دینے کا وقت ہے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اسی طرح وہ بین الاقوامی سمندری نقل و حمل کے خلاف "دشمنانہ کارروائیاں" انجام دے رہا ہے اور اسرائیل میں "ہلاک کر دینے والے حملے" کر رہا ہے۔ یہ تمام امور مزید پابندیاں عائد کرنے کا سبب ہیں۔

اس بات کی توقع ہے کہ ایران کل جمعے کے روز جوہری معاہدے کی عدم پاسدارای کے حوالے سے اضافی اقدامات کا اعلان کرے گا۔ اگر یورپ امریکی پابندیوں کے سائے میں ایران کے تیل کی فروخت کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہا تو تہران اپنی جوہری سرگرمیوں کو تیز کر دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ "ایران کو اقتصادی طور پر کُچلا جا رہا ہے اور وہ اپنے مسائل کے حل کے واسطے کوشاں ہے"۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ "ایران مذاکرات کرنے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے"۔

دوسری جانب امریکی صدر نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی نہیں جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال ایران نے اپنے آخری پچاس برسوں کا بدترین وقت گزارا۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کی جانب سے سوالات کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرایرانی لیڈر سے ملاقات ہو سکتی ہے؟ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ "یقیناً، کچھ بھی ممکن ہے ... وہ اپنی مشکلات کا حل چاہتے ہیں ... ہم انہیں 24 گھنٹوں کے اندر حل کر سکتے ہیں"۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جوہری تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں عائد کسی بھی قدغن سے دست بردار ہونے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

ایرانی صدر نے بدھ کو رات گئے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر تقریر میں کہا کہ "میں اس وقت تیسرے اقدام کا اعلان کر رہا ہوں۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ فوری طورپر تحقیق اور ترقی کے شعبے میں جو کچھ بھی درکار کام ہے، وہ شروع کردے اور تحقیق وترقی کے ضمن میں جو بھی پابندیاں عائد ہیں، ان سے دست بردار ہوجائے"۔

ایرانی صدر کے اعلان کردہ تیسرے اقدام میں سینٹری فیوجز کی ترقی شامل ہے۔