.

حوثی باغیوں کا بچوں کو بھرتی کرنے،گھروں، اسکولوں کو دھماکوں سے اڑانے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج کے ہاتھوں ملک کے شمالی علاقے حجۃ میں آپریشن کے دوران پکڑے گئے حوثی ملیشیا کے متعدد قیدیوں نے ملیشیا کی کچھ بدعنوانیوں کا انکشاف کیا ہے۔

جمعرات کے روز یمنی فوج کے پانچویں فوجی زون کے میڈیا سنٹر نے کچھ قیدیوں کے اعترافی بیانات کی ویڈیونشر کی جس میں حوثی ملیشیا کے جرائم خاص طور پر بچوں کی بھرتی اور گھروں اور اسکولوں کو دھماکوں سے اڑانے کے اعترافات شامل ہیں۔

حوثیوں میں بھرتی ہونے والے بچے ، یحییٰ محمد الوظاف نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے حوثی باغی گروپ کے موسم گرما کے مراکز میں ثقافتی کورس کے بعد اسے حرض کے محاذ سے بھرتی کیا۔

17 سالہ یحیی الوظاف نے مزید کہا کہ سالانہ اسکول کی چھٹی کے دوران حوثی ملیشیا بچوں کو محاذوں پر لے جاتی اور انہیں عسکری تربیت دی جاتی۔

یمن کے تعلیمی ذرائع کے مطابق جولائی کے شروع میں حوثی نے صنعا اور اس کے زیر اقتدار علاقوں میں بچوں اور نوعمروں کے لئے 88 سمر مراکز قائم کیے، تاکہ کےان کے ذہنوں میں فرقہ وارانہ فرقہ وارانہ نظریات راسخ کرنے کے بعد انہیں جنگی محاذوں پرلے جایا جائے۔

یمنی فوج نے سرحدی شہر حرض کے نواح میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران حوثی ملیشیا کے 23 ارکان کو گرفتار کرلیا اور متعدد فارم ہائوسز اور دیہاتوں کو آزاد کرا لیا۔