.

ملک میں احتجاج اور ہڑتالوں کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے: ایرانی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر داخلہ عبد الرزا رحمانی فضلی نے پانچ ماہ بعد ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کےقریب عوامی مظاہروں اور مزدور ہڑتالوں کا دائرہ وسیع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

'ایسنا' نیوز ایجنسی کے مطابق فضلی نے جمعرات کو بحیرہ قزوین میں ایک تقریر میں کہا کہ "پچھلے پانچ ماہ کے دوران مظاہرے اور ریلیاں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریبا 38 فی صد کمی ہوئی ہیں مگر کچھ علاقوں میں اضافہ ہوا ہے اور مظاہروں میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا'ہمارے پاس خفیہ اور عام معلومات ہیں کہ انقلاب کے دشمن معاشرے کو تقسیم کرنے اور صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے انتخابی مدت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔'

ایک ماہ قبل رحمانی فضلی نے کہا تھا کہ ملک کی 80 فی صد آبادی کے معاشی مسائل کےحل کا مطالبہ کرتی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ، بے روزگاری اور بگڑتے حالات میں عوام کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی ہے۔

حالیہ مہینوں میں عدالتی حکام اور سیکیورٹی فورسز نے مظاہروں میں حصہ لینے والے شہری حقوق کے متعدد کارکنوں کو گرفتار اور قید کردیا ہے۔

حال ہی میں اھواز اسٹیل کمپنی میں 41 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں اھواز کی انقلاب عدالت میں گذشتہ سال کارکنوں کے احتجاج میں حصہ لینے کے لئے طلب کیا گیا تھا جہاں انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران کی عدلیہ کے سربراہ ، ابراہیم رئیسی نے اس سے قبل کہا تھا کہ "ملک میں مزدوروں کے احتجاج بہت زیادہ ہورہے ہیں اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا ، "بعض اوقات بے روزگاری کے معاملات کسی خاص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ،" انہوں نے کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ "ان لوگوں کے خلاف مزاحمت کریں جو کارکنوں کے احتجاج کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ دنوں کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، فیکٹریوں، کمپنیوں کی بندش ، تنخواہوں میں بہتری کی عدم دستیابی اور اقتصادی بحران کے سبب بہت ساری پریشانیوں کی وجہ سے ایران کے متعدد صوبوں میں احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں کی گئیں۔