.

50 برس سے شہد کے شوقین سعودی خاندان کےحالات واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک خاندان گذشتہ 50 سال سے شہد کی مکھیاں پالنے اور شہد تیار کرنے میں مصروف ہے۔ شہد کی مکھیوں اور شہد کے چھتوں کے درمیان رہنے والے اس سعودی خاندان نے اس پیشے میں کئی ایشین ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں۔

شہد کی مکھیاں پالنے والے مشعل الحارثی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہد کی مکھیوں کی پرورش کا پیشہ ورثے میں اپنے والد سے ملا۔ اس نے کہا کہ میں نے کم عمری سے ہی شہد اس کے رنگ اور ذائقہ پسند کیا۔ پچاس سال کے دوران شہد کے چھتے ایک دن بھی مجھ سے غائب نہیں ہوئے۔ میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو سیکڑوں سال سے شہد کی مکھیاں پال رہاہے۔یہاں تک کہ مکھیاں ہمارے گھروں جگہ جگہ رہتی ہیں۔ مشعل الحارثی نے بتایا کہ استقبالیہ کمرے میں شہد کی مکھیاں تھیں جہاں ہم نے چھتے سے براہ راست مہمانوں کی تواضع کی۔

انہوں نے مزید کہا: "میں نے اپنے دادا اور اس کے بعد اپنے والدین سے شہد کی مکھی اور شہد کے فن سیکھے۔ والد نے 1984 میں شہد فروش کے طور پر کام کیا۔ اس وقت میری عمر 14 سال تھی۔ میں بھی اپنے والد کے ساتھ اس کام میں جت گیا۔ 2001 سے ہم نے پورے سعودی عرب میں اپنے کام کا آغاز کیا۔

الحارثی نے وضاحت کی کہ شہد کی مکھیوں کے پالنے کا پیشہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔اسے محبت کرنے والے اور اس کے خطرات برداشت کرنے والوں کی کامیابی کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔

الحریثی نے کہا کہ 'ہم ہر سال اپنے موسم کی شروعات موسم گرما میں السلم شہد سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد طلح ، القتاد ، الدہایا ، الدرہ اور المارئی ، اور پھر السدر شہد کے ساتھ سیزن کا اختتام کرتے ہیں۔

ایک سیزن کم سے کم نو ماہ تک جاری رہتا ہے جس میں شہد کی مکھیوں کی نگہداشت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

الحارثی نے مزید کہا: "میں تہواروں میں حصہ لینے کا خواہشمند ہوں۔ سعودی عرب میں الباحہ فیسٹیول ،العرضیات اور المخواہ میلوں میں بھرپور شرکت کی۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور ترکی میں ہونے والے تہواروں میں بھی شریک ہوا۔ شہد کے حوالے سے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لئے مصر اور اردن کے متعدد علاقوں کا دورہ کیا۔

الحارثی نے تصدیق کی کہ ان کے پاس شہد کی مکھیوں کی مصنوعات ، خاص طور پر (مکھی کے زہر) کے علاج میں ایشین فیڈریشن کا ایک سند بھی حاصل کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا میں اس مشن کوآگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مکھی کے ڈنگ کے سے کئی بیماریوں کےعلاج میں مدد ملتی ہے اور اسے ایک متبادل دوائی کے طورپر اپنانے کا رحجان بڑھ رہا ہےتاہم اس طریقہ علاج کے خطرات کےبارے میں لوگوں میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔