.

ایران : تشدد سے گرفتار شدگان کی ہلاکت میں ملوث سزا یافتہ جج کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے ایران کی عدالتوں کے سابق پراسیکیوٹر جنرل بیرسٹر سعید مرتضوی کو رہا کر دیا ہے۔ وہ 2009 کے عوامی احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 3 مظاہرین کی موت میں ملوث ہونے کے حوالے سے قصور وار ٹھہرائے گئے تھے۔

ایرانی ویب سائٹ "اعتماد آن لائن" نے ہفتے کے روز بتایا کہ مرتضوی کو دو سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی تاہم انہیں سزا کی دو تہائی مدت پوری کرنے پر ہی رہا کر دیا گیا۔ مرتضوی کے وکلاء اور ایرانی عدلیہ کے حکام نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایرانی حکام نے مرتضوی کو اپریل 2018 میں ملک کے شمالی صوبے مازندران سے گرفتار کیا اور پھر انہیں تہران کی ایفین جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس سے قبل وہ کئی ہفتوں سے روپوش تھے۔

اُس وقت مرتضوی کی روپوشی نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر چلائی گی مہموں میں مطالبہ کیا گیا کہ مرتضوی کی موجودگی کے مقام کے بارے میں معلومات پیش کی جائیں کیوں کہ وہ عدلیہ کو مطلوب ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی حکام کا مذاق بھی اڑایا گیا جو روزانہ درجنوں کارکنان کو گرفتار کر لیتے ہیں جب کہ ان کا دعوی تھا کہ وہ ایک اعلی سطح کے ذمے دار (جج) کا پتہ نہیں چلا سکتے۔

تہران کی عدالت نے بیرسٹر سعید مرتضوی کو محض دو برس جیل کی سزا سنائی تھی۔ اگرچہ انہیں 2009 کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار دو مظاہرین کی موت میں ملوث ہونے کا قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ مظاہرین کہریزک کی جیل مین تشدد کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ مذکورہ جج پر گرفتار شدگان کے ساتھ زیادتی میں ملوث ہونے کا بھی الزام تھا کیوں کہ اس کا ارتکاب جج کے علم میں تھا۔

سعید مرتضوی کو سابق صدر محمود احمدی نژاد کے قریب ترین معاونین میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مرتضوی ایران میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ پامالی کے مرتکب عناصر میں سے ہیں۔ ان کا نام انسانی حقوق کے حوالے سے امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرستوں میں شامل ہیں۔

ایران میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی مہم کا کہنا ہے کہ 2009 میں دو ماہ تک جاری رہنے والی عوامی احتجاجی تحریک کے دیگر 53 گرفتار شدگان کے خاندان بیرسٹر مرتضوی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان کے بیٹوں کے خلاف تشدد اور زیادتی کے جرائم میں ملوث ہیں۔