.

ایران نے تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیا، عملہ کے 12 ارکان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز قبضے میں لینے کے بعد اس پر سوار 12 فلپائنی باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ’’ گرفتار افراد' ایندھن اسمگل کرنے والے گینگ کا حصہ ہیں‘‘۔

ایران کی طلبہ نیوز ایجنسی 'ایسنا' نے صوبہ ہرمزگان میں سرحدی محافظوں کے سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ 233.71 بلین ریال (قریباً 20 لاکھ ڈالر) مالیت کی ایک غیر ملکی کشتی اور 283،900 لیٹر تیل ضبط کرلیا گیا ہے۔

میجر حسین دہاقی نے کہا کہ تیل بردار جہاز پر 12 فلپائنی سوار تھے،انھیں تفتیش کے لیے متعلقہ عدالتی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے اور وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس گروہ پر ایندھن کی اسمگلنگ کا شبہ ہے۔ ضبط کی گئی تیل کی کھیپ آبنائے ہرمز کے نزدیک واقع ضلع سرک میں منتقل کردی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیج میں امریکا اور ایران ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ امریکا نے ایرانی تیل کی سپلائی اور خریدو فروخت پرپابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

14 جولائی کو ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک "غیر ملکی ٹینکر" روک لیا تھا جس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران کے جنوبی جزیرے لاراک سے تیل اسمگل کرتا ہے۔