.

ایران میں عوامی احتجاج کو کچلنے کی تیاریاں، باسیج کا سابق سربراہ نئے منصب پر فائز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے باسیج ملیشیا کے سابق سربراہ غلام حسین غیب پرور کو اپنا نائب اور "امام علی" سیکورٹی مرکز کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ اس تقرر کا مقصد ممکنہ عوامی احتجاج کے خلاف سیکورٹی اقدامات کو سخت بنانا ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے اس تقرر کے تحت غیب پرور پاسداران انقلاب کے اہم ترین یونٹ کا کمانڈر ہو گا۔ یہ یونٹ 2009 کی سبز تحریک کے وقت سے 2018 کے مظاہروں تک عوامی احتجاج سے نمٹنے کا ذمے دار رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی عسکری امور کے تجزیہ کار مراد ویسی نے فارسی زبان کے امریکی ریڈیو چینل "فردا" کی ویب سائٹ پر شائع اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ "امام علی" سیکورٹی مرکز 2009 میں وسیع پیمانے پر ہونے والے عوامی احتجاج کو کچلنے کے حوالے سے حکمراں نظام کے تجربات کا حاصل ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے 2009 میں سبز تحریک کے تحت ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں موٹر سائیکلوں پر سوار سیکورٹی یونٹوں کا استعمال کیا۔ ان میں ہر یونٹ 50 اہل کاروں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ یونٹس پولیس کی گاڑیوں اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی فورس کی سواریوں سے زیادہ تیز تھے۔ ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ڈنڈے لیے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار نقاب پوش اہل کاروں نے مظاہرین کے بیچ انارکی اور خوف کی صورت حال پیدا کر دی۔

سال 2009 کی شورش کو دبانے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ بعد ازاں 2011 میں موٹر سائیکل سواروں کے اس یونٹ میں افراد اور سامان کا اضافہ کر کے اسے سرکاری طور پر ایک بریگیڈ کی شکل دے دی گئی۔

اویسی کے مطابق باسیج کی چھوٹی ملیشیا کے یونٹوں اور دیگر موٹر سائیکل سوار اہل کاروں کو بھی مذکورہ نئے بریگیڈ میں ضم کر دیا گیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محمد علی جعفری نے اُس وقت کہا تھا کہ ان یونٹوں کا مشن "فتنوں کی سرکوبی" ہے۔ یہ وہ سرکاری اصطلاح ہے جو ایرانی حکام ملک میں حکمراں نظام کے خلاف ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ویسی کے نزدیک اس نئے بریگیڈ کی تشکیل کا مقصد جس کی قیادت "امام علی" مرکز کے پاس ہے ،،، وہ یہ کہ مذکورہ یونٹ کرفیو زدہ علاقوں میں اور سڑکوں پر ہونے والے عوامی احتجاج کے ساتھ ازادانہ طریقے سے نمٹ سکیں۔

احتجاج سنگین ہو جانے کی صورت میں یہ بریگیڈ سینئر ذمے داران سے اجازت کے بغیر رابطے منقطع کرنے کے عالوہ ٹریفک کی آمد و رفت کو بھی جام کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بریگیڈ مقامی طور پر فیصلہ کرنے کا بھی مجاز ہے اور اسے اپنے علاقوں میں تصرف کی آزادی حاصل ہے۔

جعفری نے 4 سال قبل اپنے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ ایران کے اندر مختلف علاقوں میں 100 بریگیڈز میں تقریبا 31 ہزار اہل کاروں کو منظم کیا گیا ہے۔

یہ بریگیڈز باسیج فورس کی لڑائی کی ذمے دار تنظیم کی طرز پر کام کرتے ہیں۔ یہ صرف اس صورت میں اپنا کام شروع کرتے ہیں جب پولیس اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کی فورس مؤثر طور پر مظاہرین کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔

نئے بریگیڈ نے اپنی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے کئی مشقوں میں حصہ لیا۔

غلام حسین غیب پرور کا شمار پاسداران انقلاب کے نمایاں افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے انیس سو اسّی کی دہائی میں عراق کے خلاف جنگ میں بطور جونیئر افسر شرکت کی۔

جنگ کے بعد غیب پرور تین برس تک ایرانی پاسداران انقلاب کے 19 ویں ڈویژن کا کمانڈر رہا۔ اس کے بعد آٹھ برس فارس صوبے میں "فجر" ڈویژن کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ وہ شدت پسند ذہنیت رکھنے والی شخصیت کے طور پر مشہور ہوا جو مغربی ثقافت کے نفوذ کی سختی سے مخالفت کرتا تھا۔

اسی طرح وہ نظریہِ عملیت کے حامل سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کا بھی شدید ناقد رہا۔ اس چیز نے اسے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے حامیوں کے بیچ مقبول بنا دیا۔

سال 2014 میں ایرانی پارلیمنٹ کے آزاد امیدوار علی مطہری نے فارس صوبے کے صدر مقام شیراز شہر کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران غیب پرور نے سادہ لباس میں ملبوس عناصر کے ذریعے علی مطہری کو حملے کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ مطہری نے غیر پرور کے خلاف عدالت میں دعوی دائر کیا تاہم یہ مقدمہ توقع کے مطابق عدلیہ میں پاسداران انقلاب کی قیادت کو حاصل حمایت کے پیش نظر فیصلہ کن نہیں رہا۔

اس کے کچھ عرصہ بعد ہی غیب پرور کی "خدمات" کے صلے میں خامنہ ای کی "نوازش" سے اسے باسیج فورس کا کمانڈر بنا دیا گیا۔

غیب پرور کو داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں اس کے شدت پسندانہ مواقف کے سبب جانا گیا۔ وہ ہمیشہ سے حسن روحانی کی حکومت، امریکا اور مغربی ممالک کے خلاف بیانات کی توپ چلاتا رہتا ہے۔