.

حسن نصراللہ کا ایران اور علی خامنہ ای سے اظہار وفاداری کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے ایران اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اظہارِ وفاداری کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایران کسی جنگ میں شریک ہوتا ہے تو وہ کسی جنگلے میں نہیں رہیں گے۔

حسن نصراللہ نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا کہ اگر اسرائیلی حملوں سے لبنان کے دفاع کا معاملہ آئے گا تو پھر یقینی طور پر کوئی بھی ’سرخ لکیر‘ نہیں ہوگی۔لبنان اور لبنانی عوام اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ان کے اس اظہار وفاداری سے ایک روز قبل ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کی ایک نئی جوہری تنصیب کا انکشاف کیا تھا اور عالمی برادری پر زوردیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ میں ساتھ دے۔

انھوں نے ایرانی قیادت کو اسرائیل کی نگرانی کی صلاحیتوں سے بھی خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران جو کچھ بھی کرتا ہے اور جہاں بھی کرتا ہے،اس کی اسرائیل کو خبر ہوتی ہے۔

حسن نصراللہ نے یہ بھی کہا کہ بیروت کا دورہ کرنے والے اعلیٰ امریکی عہدہ دار اسرائیل نواز ہیں ۔ان کا اشارہ امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈیوڈ شینکر کی جانب تھا، وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بحری سرحد کے تنازع پر ثالثی کے لیے آئے ہیں۔ حسن نصراللہ نے لبنانی حکام پر زوردیا کہ وہ مسٹر شینکر سے پختہ عزم کے ساتھ مذاکرات کریں۔

لبنانی صدر میشیل عون نے آج ان سے ملاقات کی ہے۔ان کا اس سال کے اوائل میں محکمہ خارجہ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد لبنان کا یہ پہلا دورہ ہے۔لبنانی صدر کے دفتر نے ایک بیان میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا لبنان میں سرحد پر حدبندی کے لیے مصالحت کا دوبارہ آغاز کرے گا اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے لبنان کی مدد کرے گا۔

امریکا لبنان اور اسرائیل میں سرحد پرحد بندی کے لیے مصالحانہ کردار ادا کررہا ہے۔یہ دونوں ممالک 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت سے حالتِ جنگ میں ہیں۔