.

عراق: الحشد الشعبی ملیشیا کے ہتھیاروں کے ڈپو میں نیا دھماکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے انبار میں مقامی حکومت کے ایک اعلی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ پیر کی شب الحشد الشعبی ملیشیا کے ہتھیاروں کے ایک ڈپو میں ہونے والا دھماکا ،،، ڈرون طیارے کے ذریعے حملے کا نتیجہ ہے۔ یہ بات عراقی چینل السومریہ نے مذکورہ عہدے دار کے حوالے سے منگل کے روز بتائی۔

اس سے قبل العربیہ کے نمائندے نے باور کرایا تھا کہ ایک عراقی افسر نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ڈرون طیارے نے مذکورہ مقام کو بم باری کا نشانہ بنایا ہو۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران الحشد الشعبی کے کئی ڈپوؤں کو پراسرار حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دوران جب کہ عراقی حکومت نے تحقیقات شروع کرنے پر اکتفا کیا ،،، الحشد الشعبی کے بعض رہ نماؤں نے اسرائیل اور امریکا پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

گذشتہ ماہ 20 اگست کو عراق کے صوبے صلاح الدین میں بلد کے فضائی اڈے میں عراقی ملیشیا حزب اللہ (الحشد الشعبی میں شامل ایک گروپ) کے ساز و سامان کے ڈپو میں دھماکا ہوا۔

بعد ازاں امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے ان دھماکوں میں امریکا کے کسی بھی کردار کی تردید کی۔ تاہم الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی انجینئر نے تمام تر ذمے داری امریکا اور اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے اس حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی۔

البتہ الحشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض نے ابو مہدی انجینئر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ یہ الحشد الشعبی کا سرکاری موقف نہیں ہے۔

رواں سال جولائی میں بھی عراقی صوبے صلاح الدین کے مشرق میں الحشد الشعبی کے ایک عسکری کیمپ کو دو "نامعلوم" ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں لبنانی حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے کئی عناصر مارے گئے۔ اس بات کا انکشاف عراق میں عرب قبائل کی مجلس کے سربراہ شیخ ثائر البیاتی نے کیا۔