.

آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی میں مدد دینے کی سزا : ایران میں تین آسٹریلوی شہری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلوی ذرائع ابلاغ اور حکومت نے دعویٰ کیا ہے آسٹریلیا اور برطانیا کی دوہری شہریت کی حامل دو خواتین اور ایک آسٹریلوی مرد شہری کو ایران میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان میں سے ایک کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

آسٹریلیا کے محکمہ امور خارجہ اور تجارت مذکورہ تینوں افراد کے اہل خانہ کو قونصلر کے ذریعے ضروری مدد وتعاون فراہم کر رہا ہے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ قضیئے سے متعلق نجی معلومات کی بنا پر وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتا۔

محکمہ خارجہ نے آسٹریلوی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ایران سفر سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ آسٹریلوی شہریوں کو ایران میں من مانی کرتے ہوئے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار ’’ٹائمز‘‘ کے مطابق برطانیا اور آسٹریلیا کی دوہری شہریت کی حامل خاتون بلاگر اور ان کے آسٹریلوی دوست ایشیا کے سفر کے دوران دس ہفتے قبل ایران میں گرفتار کر لئے گئے تھے۔

اسی اخبار کے مطابق آسٹریلیا اور برطانیہ کے دوہری شہریت کی حامل کیمرج یونیورسٹی کی گریجویٹ اور آسٹریلوی جامعہ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ دانشور خاتون کو ایران میں گرفتار کرنے کے بعد 10 برس قید سنائی جا چکی ہے۔ اخبار کے مطابق گرفتار خاتون کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا، انہیں کس جرم میں سزا دی گئی ہے۔

آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق خاتون لیکچرار تقریباً ایک سال سے قید ہیں۔ آسٹریلوی حکومت، اخبار اور نشریاتی ادارے ABC نے ابھی تک گرفتار افراد کے نام ظاہر نہیں کئے۔

اخبار کے مطابق تینوں مذکورہ افراد کو تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں رکھا گیا ہے جہاں اکتالیس سالہ برطانوی شہری خاتون نازنین زغری ریٹکلف 2016 سے جاسوسی کے الزام میں سزا بھگت رہی ہیں۔

اخبار کے مطابق زیر حراست خواتین سے متعلق خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں تہران کے اندر جیل بھیجی جانے والے شاید یہ پہلی برطانوی شہری ہیں۔ خاتون بلاگر کو سیاسی قیدیوں کے اسی وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں برطانوی شہری خاتون نازنین زغری ریٹکلف قید ہیں۔

یاد رہے برطانیہ اور آسٹریلیا نے گذشتہ ماہ امریکی قیادت میں طے پانے والے سیکیورٹی مشن میں شرکت کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو تحفظ فراہم کرنا تھا کیونکہ تنگنائے ہرمز میں حالیہ ایران کی طرف سے مختلف ملکوں کے بحری جہاز روکنے کی کارروائیوں کے بعد تہران اور مغربی دنیا کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔