.

بدعنوانی کے باوجود خامنہ ای کے مقرب کا ایرانی رجیم کے تحفظ پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی خبرگان کونسل کے ایک سینیر رکن اور سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے قریبی ساتھی احمد خاتمی نے کہا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور عہدیداروں میں غبن کے باوجود ایرانی رجیم کی حفاظت جاری رکھنی ہوگی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'ارنا' کے مطابق احمد خاتمی نے پیر کی شام اصفہان میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ "قومی خزانے میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار، خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور دیگر مسائل کے باوجود حکومت کی حمایت اور نظام کے تحفظ کے لیے موثراقدامات کرنا ہوں گے۔

ایرانی عہدیدار نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب متعدد سرکاری عہدیدار، تاجرو، حکومت کے قریبی عمال، پاسداران انقلاب، فوج، انٹیلی جنس حکام اور دیگر ریاستی ادراروں کے عہدیداروں کی بڑی تعداد کی کرپشن کی کہانیاں منظرعام پر آ رہی ہیں۔

بدعنوانی کے کیسز

ایران کے اخبار'شرق' کی رپورٹ کے مطابق 'سرمایہ' بنک میں بدعنوانی کی ایک میگا اسکینڈل میں ایرانی انٹلی جنس سرکاری عہدیداروں کے ساتھ مل کر ایران میں ریٹائرڈ اساتذہ کے فنڈ کے ذریعہ 3.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

ایسے ہی ایک کیس میں ایرانی حکام نے بدعنوانی ، رشوت ستانی اور غبن کے مقدمات میں "کار مارکیٹ میں خلل ڈالنے" کے الزام میں دوارکان پارلیمان فریدون احمدی اور محمد عزیزی کو گرفتار کیا ہے۔

پارلیمنٹ کی معائنہ کمیٹی کے ترجمان ، بہرام پارسائی نے کہا کہ "بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی نے ایران کے کار سازوں کو ایک طاقتور مافیا میں بدل دیا ہے ،" انہوں نے بتایا کہ ایران کی دو بڑے کار سازوں کمپنیوں سائپا اور 'ایران خود رو' غبن کی رقم 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔

انسداد بدعنوانی مہم کے ایک حصے کے طور پر ، لاریجانی خاندان کی طرف سے غبن ، رشوت ، چوری اور اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال اور استحصال کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ خاندان کئی دہائیوں سے عدلیہ اور پارلیمنٹ پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہےت
گذشتہ ماہ بھی سیکیورٹی حکام نے ایران کی وزارت تیل کے ڈائریکٹر خزانہ کو گرفتار کیا تھا۔ وہ 25 ملین ڈالر لے کر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایران میں اس وقت درجنوں اہلکاروں پر غبن ، چوری اور رشوت کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے تاہم اس کے باوجود ایرانی عہدیدار مذہبی نظام کے تحفظ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔