.

غزہ پر اسرائیلی بمباری ۔۔ مزاحمت کاروں کے یہودی بستیوں پر راکٹ حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مائیگرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر دعویٰ کیا کہ ان کی فوج نے غزہ کی پٹی سے راکٹوں کے تین شیل فائر ہوتے دیکھے ہیں۔

فوجی ترجمان ایوخائی ادرعی نے بتایا کہ راکٹ باری کے جواب میں اسرائیلی فوجی ٹینک نے شمالی غزہ کی پٹی میں مزاحمتی تنظیم کے دو فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ادھر ’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینک سے داغے جانے والے گولے کی زد میں آ کر چار افراد معمولی زخمی ہوئے۔ غزہ سے فائر کئے گئے راکٹوں میں سے دو یہودی بستی یاد مودخائی سے ملے، جن سے وہاں ایک زرعی سٹور کو نقصان پہنچا۔

بدھ کے روز اسرائیلی فوج کے ایک عسکری اعلامیے میں بتایا گیا کہ غزہ سے منگل کی رات ہونے والی راکٹ باری کے جواب میں صہیونی فوج نے بھی غزہ میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔

غزہ میں حماس سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی ذرائع نے ’’اے ایف پی‘‘ خبر رساں ایجنسی کو بتایا اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں مزاحمت کاروں کے اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں نیول پولیس کا دفتر اور جنوبی غزہ کی پٹی کے علاقے دیر البلح میں غیر آباد عمارت بھی بمباری کا نشانہ بنی۔ اسرائیلی فضائی حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس میں چند عمارتوں کو نقصان ضرور پہنچا۔

منگل کی رات جنوبی اسرائیل کا شہر اشدود خطرے کے سائرن سے گونج اٹھا جو غزہ کی پٹی سے راکٹ فائرنگ سے بچاؤ کے لئے ضروری اقدام اٹھانے کا انتباہ تھا۔ اس وقت بنجمن نیتن یاہو اپنی جماعت لیکوڈ کے اجلاس سے خطاب کر رہا تھا۔ حملے کے بعد انہیں فوراً وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

اسرائیلی فوج اپنے مختصر بیان میں کہا کہ میزائل شکن آئرن ڈوم سسٹم نے غزہ سے داغے گئے تمام راکٹوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا گذشتہ دس برسوں سے سخت محاصرہ کر رکھا ہے۔