.

’’مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان امن عمل کی تباہی ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قائم فلسطینی حکومت کی ایک اعلیٰ عہدیدار حنان عشراوی کا کہنا ہے کہ نتین یاہو کی جانب سے الیکشن میں دوبارہ کامیابی کی صورت میں وادی اردن پر ہاتھ صاف کرنے کے اعلان سےاسرائیل اور فلسطین کے درمیان کسی بھی ممکنہ امن عمل کے امکانات ناپید ہوجائیں گے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے حنان عشراوی نے بتایا کہ "وہ [نیتن یاہو] صرف دو ریاستی حل ہی کو نقصان نہیں پہنچا رہے بلکہ ان کا اقدام مسئلہ فلسطین کے کسی بھی قسم کے پر امن حل کے امکانات کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ اعلان تاریخ کا رخ موڑ دے گا۔"

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کے روز ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ووٹروں کو یقین دلایا تھا: ’’اگر 17 ستمبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں انہیں کامیابی ملی تو وہ مغربی کنارے کے علاقے غور الاردن اور بحیرہ مردار کے شمالی علاقے کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنائیں گے۔

انہوں نے ایک بار پھر اپنے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مغربی کنارے میں موجود تمام اسرائیلی بستیوں کو اسرائیل کا باضابطہ حصہ قرار دے دیں گے اور ان کے اس اقدام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔

حنان عشراوی کا مزید کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ اعلان متعصبانہ پالیسیوں سے بھی بدتر ہے۔ ان کا کہنا تھا " نیتن یاہو فلسطینی زمین پر قبضہ کر رہے ہیں اور وہاں بسنے والے افراد کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کسی دوسری جگہ جانے کے لئے آزاد ہیں۔"

اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا اس اقدام کو کبھی بھی عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔

اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے غیر قانونی یہودی بستیوں میں 4 لاکھ سے زائد اسرائیلی لا کر آباد کر دئیے ہیں جب کہ اس علاقے میں فلسطینیوں کی آبادی 27 لاکھ ہیں۔