.

اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ حماس اور ترکی کے درمیان کشیدگی کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم 'حماس' اور ترکی کے درمیان تنائو کے پیچھے اسرائیلی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ قرار دی جا رہی ہے جس نے دونوں اتحادیوں کو ایک دوسرے کے حوالے سے تشکیک میں ڈال دیا ہے۔

یروشلم کے 'پبلک افیئر سینٹر' کے مطابق ترکی نے استنبول میں حماس کے دفتر کی حیثیت کی اس وقت جانچ شروع کی جب اسرائیل اور امریکا کی طرف سے ترکی کو بھیجے جانے والی انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حماس کا دفتر ترکی کے اندر سے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

ترکی کے ساتھ اسرائیلی تعلقات میں جمود کے باوجود دونوں ممالک کے مابین انٹیلی جنس تعلقات اب بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ یسرایل کاٹز نے ہفتے کے آخر میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ترکی کے صدر کو ترکی میں داعش کے منصوبہ بند حملوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں۔

سیاسی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ترکی کو استنبول میں قائم حماس مشن کی سرگرمی سے آگاہ کیا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ حماس ترکی اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے بھی خلاف ہے۔

ترکی نے اسرائیل سے وعدہ کیا ہے کہ وہ صرف استنبول میں حماس کے دفتر کو سیاسی طور پر سرگرم رہنے کی اجازت دے گا اور اسرائیل نے ترک سرزمین پر حماس کو نشانہ نہ بنانے کا عزم کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ یہ دفتر، جو حماس کے رہنما صالح العورری کے زیر انتظام ہے حماس کے فوجی دستے سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو ملازمت کرتا ہے۔ ان ارکان کو اسرائیل کے ساتھ طے پائے قیدیوں کے تبادلے 'گیلاد شالیت' ڈیل کے تحت رہا کرنے کے بعد ترکی بھیجا گیا تھا۔

حماس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ دفتر مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں کو پڑھنے، رقم منتقل کرنے کے لیے ترکی آنے والے فلسطینی طلباء کو بھی بھرتی کر رہا ہے۔

'انڈیپنڈنٹ' ویب سائٹ نے حماس کے ایک سینئر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک قیادت اور حماس کے مابین حالیہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب ترک حکام نے حماس سے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق پوچھ تاچھ شروع کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے شام کی اسد رجیم کی طرف دوبارہ بڑھتی قربت پربھی انقرہ کو حماس پر غصہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے حال ہی میں نضال دوابشہ اورعبدالرحمن غنیمات جیسے فوجی کارکنوں کے بارے میں ترکی کو انٹلیجنس رپورٹس حوالے کی تھیں۔

ویب سائٹ کے مطابق حماس کی قیادت مشکوک سرگرمیوں پر ترک حکام کی پوچھ گچھ کرنے کے بعد الجھن کا شکار ہوگئی۔ حماس نے فوری طور پر اسرائیلی الزامات کی تردید کی تھی اور ترک قیادت کو ایک خط بھیجا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ مفاہمتوں پر کاربند ہے۔

حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ترکی میں تنظیم کی فوجی سرگرمیوں اور ترکی سے رقوم کی منتقلی کی وجہ سے ترکی حماس کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس پولیٹیکل بیورو کے سابق سربراہ خالد مشعل کے ساتھ ترکی کے اچھے تعلقات ہیں جبکہ اسماعیل ھنیہ اور یحییٰ سنور ایرانی قیادت کے زیادہ قریب ہیں۔

ترکی کی حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے پی) کے اعلی عہدیداروں نے صدر اردوآن سے شکایت کی ہے کہ ترکی میں حماس کی موجودگی قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حماس نام نہاد "مزاحمت کے محور" کے ساتھ کام کر رہی ہے جس میں ایران، شام اور حزب اللہ شامل ہیں۔

امریکا نے حال ہی میں ترکی کو متنبہ کیا تھا کہ وہ حماس کی حمایت کرنے والی ترک شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عاید کرے گا۔ حماس کو امریکا میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔