.

فلسطینی دوشیزہ کی موت چھت سے گرنے سے نہیں، گھریلو تشدد سے ہوئی:حکام کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی دوشیزہ اسراء غریب کی موت چھت سے گرنے سے نہیں بلکہ گھریلو تشدد سے ہوئی تھی اور انھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

فلسطینی اٹارنی جنرل اکرم الخطیب نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک نیوزکانفرنس میں اکیس سالہ اسراء غریب کی غیر فطری موت کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں مارا پیٹا گیا تھا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ان کے نظام تنفس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

الخطیب نے بتایا کہ اسراء غریب کے قتل کے الزام میں ان کے تین رشتے داروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کی موت کے بعد ان کے خاندان نے صحافیوں کو یہ کہانی بیان کی تھی کہ وہ بالائی منزل کی بالکونی سے نیچے کود گئی تھیں جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔

بعد میں ان کے خاندان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ ذہنی عارضے سے دوچار تھیں۔پھر انھوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسراء کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔

اکرم الخطیب نے صحافیوں کو بتایا کہ تحقیقات سے اس خاندان کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔انھوں نے مقتولہ پر گھریلو تشدد کو چھپانے کے لیے یہ کہانیاں گھڑی تھیں۔

نفسیاتی اور اعصابی امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر توفیق سلمان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسراء غریب کے طبی ریکارڈ سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا تھیں۔

مقتولہ ایک میک اپ آرٹسٹ تھیں۔اس ماہ کے اوائل میں ان کی اچانک موت پر فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا تھا اورانھوں نے سوشل میڈیا کے علاوہ غربِ اردن کے دو شہروں بیت لحم اور رام اللہ میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔مقتولہ کی قریبی دوستوں اور مظاہرین نے واقعے کو غیرت کے نام پر قتل کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔انھوں نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

فلسطینی مردوخواتین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے رام اللہ میں وزیراعظم کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور عائلی تحفظ قانون کی منظوری کا مطالبہ کیا تھا۔اس قانون کے تحت غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کی ممانعت کی گئی ہے۔

واقعات کے مطابق بیت لحم سے تعلق رکھنے والی اسراء غریب کو محض اس بنا پر تشدد سے موت کی نیند سلا دیا گیا تھا کہ وہ اپنے منگیتر اور اپنی بہن کے ساتھ گھر سے باہر رات کے کھانے کے لیے گئی تھیں۔انھوں نے اس کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پر پوسٹ کی تھی۔

ان کی دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کے چچا زاد بھائیوں اور چچا کو اس ویڈیو پرغصہ تھا اور انھوں نے مقتولہ کے والد اور بھائیوں سے کہا کہ ان کی بیٹی نے اپنے منگیتر کے ساتھ باضابطہ شادی سے قبل گھر سے باہر جا کر ان کے خاندان کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔

سوشل میڈیا پر اسراء غریب کی والدہ کی ایک صوتی ریکارڈنگ بھی جاری کی گئی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں سے اجازت ملنے کے بعد ہی رات کو گھر سے باہر گئی تھیں۔

اسراء غریب کو دس اگست کو زخمی حالت میں بیت جالا کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ان کی چیختے چلاتے آواز سنی جاسکتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔