.

کویت میں پاجامہ پر پابندی کی تجویز سوشل میڈیا پرٹاپ ٹرینڈ کرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست کویت میں جہاں اس وقت کئی اہم مسائل موجود ہیں وہاں سوشل میڈیا پر ایک ایسے موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے جو بہ ظاہرانتہائی معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر صارفین نے اس موضوع کا خوب مذاق اڑایا ہے۔

کویت میں سوشل میڈیا کا تازہ اور گرما گرم موضوع 'پاجامہ' ہے۔ کویتی مجلس امہ یعنی پارلیمنٹ میں ایک نئے آئینی بل کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک مقامات پر پاجامہ زیب تن کرنا اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ اگر کوئی شخص'نائیٹ ڈریس' یعنی رات کو سونے کے لیے استعمال کرنے والا لباس پبلک مقامات پرپہنتا ہے تو اسے ایک ہزار دینار جرمانہ کیا جانا چاہیے۔ یہ تجویز تضحیک اور طنز کا نشانہ بننے کے ساتھ 'جرمانہ، پاجامہ، ایک ہزار دینار ہیش ٹیگ صف اول میں ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔

تجویز کا مقصد اقدار اور عمومی مزاج کا تحفظ

کویت کے ایک قانون ساز کی طرف سے یہ پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی گئی کہ عوامی مزاج ، رویوں اور قومی اقدار کے تحفظ کے لیے پبلک مقامات پر پاجامہ پہننے پر پابندی لگائی جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنےوالے کو ایک ہزار کویتی دینار یعنی 3300 امریکی ڈالر کے مساوی رقم کا جرمانہ کیا جائے۔ یہ تجویز سامنے آنے کیے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔

گیارہ رویوں کی نشاندہی

کویت کےمقامی اخبار القبس کے مطابق رکن پارلیمنٹ ماجد المطیری نے اپنی تجویز میں عوامی مقامات پر 11 طرز عمل کے منفی رویوں کی نشاندہی کی جب کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا کی سفارش کی گئی۔ ان رویوں میں ایسی تصاویر یا جملے شامل ہیں جو عمومی مزاج اور شائستگی کے لیے ناگوار ہیں، انڈرویئر پہننا، غیراخلاقی حرکات و سکنات، فحش جملوں اور الفاظ کا استعمال، عوامی مقامات پر بلند آہنگ موسیقی، قطار توڑ کر دوسرے کی جگہ پر کھڑا ہونا، مذاق اڑانا،سڑکوں پر چلتےہوئےکاروں سے گندگی پھینکنا ، تھوکنا ،کاروں سے دھواں پھینکنا اور بغیر اجازت دوسروں کی تصویر کشی کرنا بھی شامل ہے۔

سخت سزا

کویت کے قانون کے تحت غیرخلاقی حرکات اور عوامی مزاج کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حق ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار کے انتباہ کے باوجود ان اقدار کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے بھاری جرمانے کی شکل میں سخت سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

اخلاقی بے راہ روی

رکن پارلیمنٹ ماجد المطیری نے مسودہ قانون کی یادداشت میں کہا ہے کہ کویت میں غیرملکیوں کی تعداد میں اضافے نے معاشرے میں اخلاقی بے راہ روی میں اضافہ کیا ہے۔ اس اخلاقی بے راہ روی کے مظاہر پبلک مقامات پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بعض منچلے پبلک مقامات پر تیز رفتار ڈرائیونگ کےساتھ ساتھ بلند آہنگ موسیقی چلاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں دوسرے لوگوں کو ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے کویت کے اخلاقی پہلو پر ضرب لگنےکے ساتھ ساتھ کویت کے تشخص کو نقصان پہنچتا ہے۔

تجویز پرتنقید

سوشل میڈیا پر پاجامہ پر پابندی کی تجویز ایک مذاق بن کر ابھر رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کاخیال ہے کہ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملک و قوم کو بہت بڑےبڑے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں عوام اور ارکان پارلیمنٹ، وزراء ہرایک کو ان بڑے مسائل کےحل پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ ہم پاجامہ پرپابندی کے قانون کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں کہ ملک کی تعمیرو ترقی اور خوش حالی میں یہ قانون کلیدی حیثیت کا حامل ہوگا اور اس کے بعد ملک خوش حال اور عوام آسودہ ہونے کےساتھ ساتھ ملک کودرپیش تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔