.

روس کا ایران کے لیے پیغام اور ادلب پر سہ ملکی سربراہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز روس کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ روس ، ترکی اور ایران کے رہ نما پیر کو انقرہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں شام کے صوبے ادلب میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس سربراہ اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتین، ترک صدر رجب طیب اردوآن اور ایرانی صدر حسن روحانی شرکت کریں گے۔

کریملین کے ایک سینیر عہدیدار یوری اوشاکوف نے کہا کہ روس نے ایران سے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی کارروائی سے باز رہے جس کے نتیجے میں جوہری معاہدہ مزید خطرے سے دوچار ہو، جو پہلے ہی امریکا کے بائیکاٹ سے متاثر ہوچکا ہے۔

حال ہی میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ 'شام میں جنگ ختم ہوگئی ہے اور شام آہستہ آہستہ معمول کے پرامن زندگی میں واپس آرہا ہے'۔

لاوروف نے روسی اخبار "ٹروڈ" کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں متعدد مقامات پر کشیدگی کے مراکز وہاں ہیں جہاں شامی حکومت کا کنٹرول نہیں۔ ان میں ادلب اور فرات کے مشرقی کنارے کے علاقے شامل ہیں۔

قبل ازیں بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو یورینیم افزودگی بڑھانے کے سنگین نتائج پر متنبہ کیا تھا۔

امریکی صدر نے وائیٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ تہران کا یورینیم افزدوگی میں اضافہ کرنا انتہائی خطرناک پیش رفت ہے