.

شام میں جنگ ختم ہو چکی، صرف کشیدگی کے محاذ باقی رہ گئے ہیں: لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ شام میں جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہاں حالات دھیرے دھیرے معمول کی پر امن زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

روسی اخبار Trud کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب صرف ادلب اور دریائے فرات کے مشرقی کنارے جیسے علاقوں میں کشیدگی کے بادل چھائے ہوئے جو شامی حکومت کے زیر کنٹرول نہیں ہیں۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق اس وقت توجہ کا مرکز انسانی امداد پیش کرنا اور سیاسی عمل کو حرکت میں لانا ہے تا کہ بحران کو حل کر کے دائمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

لاؤروف نے غالب گمان ظاہر کیا کہ آئینی اصلاحات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی اس عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے گی جس کی قیادت شامیوں کے ہاتھوں میں ہو اور اقوام متحدہ کی مدد سے اس پر عمل درامد کیا جائے۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق ان کے ملک نے شام میں تمام فریقوں کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھا ہوا ہے جس میں اپوزیشن بھی شامل ہے تا کہ سیاسی عمل میں شامی معاشرے کے تمام طبقات کی وسیع ترین نمائندگی ممکن ہو سکے۔

شامی حکومت پر پابندیوں کے حوالے سے لاؤروف کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں غیر تعمیری ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ شام کی خود مختاری اور اس کی سرزمین کی وحدت کا احترام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل اس حوالے سے روس کے موقف کے ساتھ مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔

ادھر حلب کے شمال میں واقع عفرین شہر میں اپوزیشن گروپوں کے ایک عسکری مرکز کو کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع کے مطابق حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے۔