.

او آئی سی جدہ میں نیتن یاہو کی ’’اشتعال انگیزی‘‘ کا جواب دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلمان ممالک کی نمائندہ او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس آج اتوار کو جدہ میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس سعودی عرب کی اپیل پر بلایا گیا ہے۔اس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ان حالیہ بیانات کے مضمرات پر غور کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ انتخاب جیتنے کی صورت میں وہ غور الاردن، بحیرہ مردار کے شمالی علاقے اور یہودی بستیاں اسرائیل میں ضم کر دیں گے۔

نیتن یاہو کے اس بیان پر دنیا بھر سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد مغربی، اسلامی اور عرب ممالک نے اس کو غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں اس کی مذمت کی۔

’’سعودی عرب فلسطین کا محافظ‘‘

سعودی عرب کی دعوت پر آج ہونے والے او آئی سی کے اجلاس کے حوالے پین عرب اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ کو جاری بیان میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین سعودی عرب کی حمایت سے ہمیشہ محفوظ ہاتھوں میں رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی اپیل پر جدہ میں او آئی سی کا ہنگامی اجلاس اس بات کی دلیل ہے کہ سعودی قیادت میں فلسطینی عوام اور ان کے دیرنیہ مسئلے کو عرب اور اسلامی دنیا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ریاض المالکی نے کہا کہ جدہ اجلاس اسرائیل سمیت پوری دنیا کے لئے ایک اہم پیغام دے گا کہ اس معاملے پر فلسطینی اور سعودی حکومت کے درمیان گہری مشاورت اور کوارڈی نیشن موجود ہے۔

’’زمین کے بغیر امن ممکن نہیں‘‘

یاد رہے کہ گذشتہ بدھ کے روز سعودی عرب نے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے وادی اردن اور دیگر مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے دوٹوک انداز میں مسترد کیا تھا۔ الریاض نے اس اعلان کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر غور کے لیے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔

سعودی عرب نے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ نیتن یاہو کا اعلان فلسطینی عوام کے لئے خطرناک نتائج رکھتا ہے۔ نیز یہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جس سے علاقے میں دیرپا قیام امن کی کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ فلسطین کے مقبوضہ علاقے واگزار کئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا اور فلسطینی عوام اپنی سرزمین پر کسی کم وکاست کے بغیر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔