.

آرامکوکی تنصیبات پر حملوں سے ایران کاکوئی تعلق نہیں :ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ ہفتے کے روز سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں تہران کا کردار ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ مذکورہ حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایرانی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ "ہم ان الزامات کی سخت ملامت کرتے ہیں اور انہیں ناقابل قبول اور قطعا بے بنیاد شمار کرتے ہیں"۔

اس سے قبل اتوار کی شام ایک امریکی ذمے دار نے صحافیوں کو آگاہ کیا تھا کہ ہفتے کے روز دنیا میں سب سے بڑی آئل کمپنی کی تنصیبات پر حملوں کے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ اس کارروائی میں یمن کی حوثی جماعت کا نہیں بلکہ ایران کا ہاتھ کارفرما ہے۔ حوثی ملیشیا نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ایک ٹویٹ میں کہا کہ سعودی عرب میں آرامکو کمپنی کی تیل کی دو تنصیبات پر حملے کا جواب دینے کے لیے امریکا "ہنگامی طور پر تیار" ہے۔ انھوں نے کہا کہ"سعودی عرب میں تیل کی ترسیلات کو نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے پاس وجہ ہے اور ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ہم اس کارروائی کے مرتکب کو جانتے ہیں۔ہم تحقیقات کی بنیاد پر جوابی کارروائی کے لیے ہنگامی طور پر تیار ہیں۔ تاہم ہمیں انتظار ہے کہ مملکت ہمیں خود آگاہ کرے کہ اس حملے کے پیچھے کون ہے اور ہمیں کس طرح آگے بڑھنا ہو گا"۔

عباس موسوی نے گذشتہ روز بھی مذکورہ (امریکی) الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں "بے سروپا" قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ "اس طرح کے الزامات بے فائدہ اور سمجھ سے بالا تر ہیں"۔