.

جوہری معاہدے کی عدم پاسداری جاری ، ایران کا چوتھے اقدام کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے جوہری معاہدے کی مزید خلاف ورزیوں کے سلسلے میں چوتھے اقدام کا عندیہ دیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی نے پیر کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی پاسداری کم کرنے کے حوالے سے اس وقت تیسرے اقدام پر عمل درامد جاری ہے اور چوتھا اقدام تیاری کے مراحل میں ہے۔

اس سے قبل جمعے کے روز ایرانی جوہری معاہدے پر دستخط میں شریک یورپی ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ اور ان کے علاوہ یورپی یونین کی وزیر خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ یہ موقف فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی وزارات خارجہ کے ترجمانوں اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی ذمے دار فیڈریکا موگرینی کے ایک مشترکہ بیان میں سامنے آیا۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ "ایران کی حالیہ جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے کافی تشویش پائی جا رہی ہے"۔ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے کسی بھی نئے اقدام سے گریز کرے۔ ؎

یاد رہے کہ ایران اب تک اپنے جوہری پروگرام سے معلق معاہدے کی تین پاسداریوں سے دست بردار ہو چکا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز دھمکی دی تھی کہ "ضرورت ہونے کی صورت میں" وہ اس طرح کے مزید اقدامات کریں گے۔

ایرانی صدر نے 10 روز قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جوہری میدان میں تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں عائد کسی بھی پابندی اور قید سے دست بردار ہونے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے جوہری معاہدے کے متن میں موجود ایرانی پاسداریوں کی کمی سے متعلق پلان کے تیسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ اس مرحلے میں یورینیم کی افزودگی کے واسطے سینٹری فیوجز کو ترقی دینا شامل ہے۔

روحانی کا کہنا تھا کہ "ہم ایرانی قوم کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مطلوب تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ ہمارا تیسرا اقدام سینٹری فیوجز کو جدید بنانے پر مشتمل ہے"۔