.

تیل کی سپلائی میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں: امارات

امارات کے پاس تیل کی ذخیرہ شدہ وافر مقدار موجود ہے:وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی و صنعت سہیل المزروعی نے کہا ہے کہ ارامکو تیل تنصیبات پرحملوں کے بعد سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ تیل کی سپلائی کے لیے ہرممکن تعاون کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی رسد میں کسی بھی دور کرنے کے لیے اور کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ یقینی تعاون کیا جائے گا

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق المزروعی نے پیر کو ابو ظہبی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام اجلاس کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی کو بتایا کہ آرامکو تنصیبات پر حملوں فوری بعد ہم نے سعودی عرب کی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دہشت گردی کے واقعے کے نتائج پر قابو پانے کے لیے سعودی عرب کی قابلیت پر اپنے اعتماد ہے۔سعودی عرب عالمی توانائی کے میدان میں اہم اور موثر ملک ہے جو تیل کی کل پیداوار کا 10 فی صد فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر کسی بھی قسم کی تخریبی کارروائی عالمی سطح پر توانائی مارکیٹ کو متاثر کرتیہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں المزروعی نے کہا کہ اوپیک کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی بات قبل از وقت ہے۔ ہنگامی اجلاس صرف سعودی عرب کی درخواست پر بلایا جاسکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اوپیک کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پرعمل درآمد یقینی بنائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کی امدادی ٹیموں کی طرف سے آرامکو تنصیبات میں لگنے والی آگ پر جلد از جلد قابو پانے کی کوششوں کو سراہا اور کہا ریسکیو آپریشن سے سعودی عرب کی کسی بھی مشکل سے نمٹنے کی صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ذخیرہ شدہ تیل کی وافرمقدار موجود ہے۔ ضرورت پڑنے پر اسے استعمال میں لایا جائے گا۔