.

سعودی عرب پر دہشت گرد حملہ خطر ناک جارحیت ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور انور قرقاش نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب میں ہفتے کے روز تیل کی دو تنصیبات پر ہونے والا حملہ بذات خود ایک خطر ناک جارحیت ہے۔

منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں قرقاش نے کہا "ارامکو کی تنصیبات پر غیر معمولی نوعیت کے دہشت گرد حملے کا کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں ہے ... سعودی عرب پر حملہ بذات خود ایک خطرناک جارحیت ہے۔ اس موقع پر ہر عرب ملک اور عالمی برادری کی ہر ذمے دار ریاست کو سعودی عرب اور خطے کے استحکام اور سلامتی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے"۔

اس سے قبل یمن میں حوثیوں کے خلاف برسر جنگ عرب اتحاد نے کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ سعودی ارامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر حملوں کے لیے ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق ان ڈرون حملوں کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ اشارے ملے ہیں کہ دونوں حملوں میں استعمال کیے گئے ہتھیار ایران سے آئے تھے۔ اب اس امر کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ ہتھیار(ڈرون) کس طرف سے چھوڑے گئے تھے۔ کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی تکمیل کے بعد انھیں میڈیا کے لیے عام کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے تخریب کاری کا نشانہ بننے والے عالمی نظام کے دفاع کے لیے امریکا اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے پیر کے روز ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ انہوں نے تھوڑی دیر قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلی عہدے داروں کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ارامکو حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرغور کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ "امریکا ارامکو حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دینے کے لیے تیار ہے"۔