.

جب دبئی پولیس 4 سالہ ایشیائی بچے کی کفیل بن گئی!

جیل میں قید ایشیائی جوڑے کے چار سالہ بچے کی کفالت دبئی پولیس نے کیسے کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک جیل میں قید ایشیائی میاں بیوی کے تنہا رہ جانے والے چار سالہ بچے کی دیکھ بحال، اس کی کفالت، تعلیم اور صحت سے متعلق تمام ذمہ داریاں دبئی پولیس نے احسن طریقے سے پوری کرکے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایشیائی ملکوں سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا مالی امورسے متعلق ایک کیس میں جیل میں قید تھا اوراس کے چار سالہ بچے کو پولیس نے اپنی تحویل میں لینے کے بعد اس کے علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کا بیڑا اٹھایا یہ بچہ اس وقت تک پولیس کی زیرکفالت رہاے جب تک اس کے والدین رہا نہیں ہوگئے۔

متحدہ عرب امارات کے اخبار البیان کے مطابق تھانہ نیف کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر طارق محمد نور تھلک نے بتایا کہ بچے کی والدہ دبئی کی خواتین جیل میں قید تھی جب کہ والد ایک دوسری جیل میں تھا۔ دونوں مالی امور سے متعلق ایک کیس میں گرفتار رہے۔ اس دوران ان کا چار سالہ بچہ تنہا رہا گیا تو پولیس نے اس کی کفالت کی ذمہ داری نبھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ دبئی میں اس بچے کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے ، لہٰذا دبئی پولیس نے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کربچے کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی۔

بریگیڈیئر جنرل طارق نے کہا کہ اس بچے کے پاس شناختی دستاویزات مکمل نہیں۔ اس کے علاوہ اسے جلد کی بیماری اور ساتھ ہی اس کی زبان میں بھی لکنت تھی ہے اور وہ صحیح طریقے سے بات نہیں کرسکتا۔ پولیس کی نگرانی میں اس کا علاج جاری رہا۔ اس دوران پولیس نے بچوں کی دیکھ بحال کرنے والی ایک فلاحی تنظیم سے بھی بچے کی کفالت میں مدد لی۔ دبئی پولیس نے بچے کےمتعلقہ ملک کے سفارت خانے سے رابطہ کرکے بچے کی دستاویزات اور پاسپورٹ بھی تیار کرائے گئے۔

اس دوران اس کے والدین بھی کیسز سزا مکمل کرکے رہا ہوگئے اور بچہ ان کے حوالے کردیا گیا۔ دونوں میاں بیوی اپنے بچے پولیس کی نگرانی میں کفالت پر دبئی پولیس کے شکر گذار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کی پولیس نے انسانی ہمدردی کے جذبے کۓ تحت ان کے بچے کی کفالت کی ہے جس پر وہ تہ دل سے پولیس کے شکر گذار ہیں۔