.

ماکروں کا محمد بن سلمان سے رابطہ ، مملکت کے امن کے لیے فرانس کی سپورٹ کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس موقع پر فرانسیسی صدر نے مملکت میں ارامکو کمپنی کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے معاندانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ ماکروں نے اس نوعیت کی تخریب کاری کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں سعودی عرب کے امن و استحکام کے لیے فرانس کی معاونت اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔

فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ اس طرح کی جارحیت کے حوالے سے دنیا کو کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ماکروں نے مشرق وسطی کے استحکام کے واسطے سعودی قیادت کی خواہش اور کوششوں کو گراں قدر قرار دیا۔

فرانس کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ملک ارامکو کی تنصیبات پر حملے کے پیچھے موجود اصل فریق کے بارے میں جاننے کے سلسلے میں بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ تحقیقات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد نے باور کرایا ہے کہ تیل کی تنصیبات پر ان حملوں کا مقصد پورے خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنا اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانا تھا۔

اس سے قبل منگل کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے ٹیلفونک کال موصول ہوئی۔

برطانوی وزیراعظم نے بقیق اور خریص ہجرہ میں سعودی ارامکو کے دو پلانٹس پر تخریبی حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے مملکت کے ساتھ برطانیہ کی مکمل یک جہتی کا اظہار کیا۔ جانسن نے اس طرح کے حملوں سے نمٹنے کے لیے سعودی قیادت کی دانش مندی کو سراہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس نوعیت کی مجرمانہ کارروائیوں کے حوالے سے مضبوط بین الاقوامی موقف سامنے آنا چاہیے اور اسے بنا سرزنش کے چھوڑا نہیں جانا چاہیے۔

ادھر سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ یہ تخریبی حملہ نہ صرف مملکت بلکہ پوری دنیا کے واسطے ایک خطر ناک جارحیت ہے۔