.

مصرمیں 'لازمی طلاق انشورنس' پر نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں میاں بیوی کےدرمیان طلاق کے حوالے سے'لازمی انشورنس' کے معاملے میں ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ مصر کی فنانشل سپروائزری اتھارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک لازمی طلاق انشورنس پالیسی ، جو شوہر کی طرف سے شادی سے پہلے مقررہ قسطوں میں ادا کی جاتی ہے ، ابھی زیر غورہے۔ اس میں مطلقہ کومعاوضے یا پریمیم کی رقم کے ساتھ معاوضے کی مدت کا بھی تعین نہیں کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے سماجی حلقوں میں یہ موضوع تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ لازمی طلاق انشورنس کے حامیوں اور مخالفین کی آراء بٹی ہوئی ہیں۔ ابھی تک اس پالیسی کی حتمی شکل کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پر پارلیمنٹ میں بحث بھی باقی ہے۔ اس بارے میں بہت سارے سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا یہ دستاویز طلاق کے معاملے میں بیوی اور بچوں کے حقوق کے لیے انشورنس مہیا کرے گی۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں مصر میں طلاق کی اعلی شرح سب سے زیادہ ہے۔ کیا اس پالیسی سے شادی کے زیادہ اخراجات کی روک تھام مدد ملے گی ؟ کہ بڑھتے اخراجات کی جہ سے مصر میں شادی کے کم مواقع کم ہو رہے ہیں۔

شادی کے زیادہ اخراجات

اس تناظر میں ، ڈاکٹراسماء مراد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئےکہا کہ لازمی طلاق انشورنس سے متعلق دستاویز کو جاری کرنے سے پہلے اس کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی تیزی کے ساتھ بڑھتی عمر اور شادی کے بڑھتے اخراجات سے شادی بیاہ کے مواقع میں کمی ، بے تحاشا مہر اور دیگر اخراجات میں انشورنس پالیسی ایک اضافی بوجھ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دستاویزکا مثبت پہلو یہ ہے کہ شوہر کو طلاق کی صورت میں خاتون اور بچوں کی دیکھ بھال کا پابند کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ تاہم چاہے طلاق مرد کی طرف سے ہو یا خلع کی شکل میں ہو لازمی طلاق انشورینس کے نفاذ سے قبل اس کے نتائج، اثرات اور مضمرات کا گہرائی سے مطالعہ ضروری ہے۔

تاخیر سے شادی

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دستاویز بیوی کے لئے طلاق کی صورت میں مکمل حقوق کو یقینی بنانے کےلیے مثبت ثابت ہوگی ، لیکن شادی کی عمر میں تاخیر اور شادی کے اخراجات میں منفی اثر ڈالے گی۔ اس سے شادی کے تقاضوں اور قانونی ذمہ داریوں کے بارے میں نوجوانوں میں خوف میں اضافہ اور شادی کی شرح میں کمی بھی آسکتی ہے۔

خاتون کے ماہر معاشیات نے اس دستاویز کو تمام پہلوؤں اور شرائط پر پوری طرح سے مطالعہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ، تاکہ طلاق کی صورت میں دونوں میاں بیوی کے حقوق کو یقینی بنایا جاسکے ، خاص طور پر طلاق یافتہ عورتوں کو خاوند کی طرف سے ادائی گی سے فرار کی صورت میں درپیش مشکلات کے حل میں مدد فراہم کی جاسکے۔