.

ہمیں ایک طاقت ور صہیونی حکومت کی ضرورت ہے : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز اپنی جماعت لیکوڈ پارٹی سے خطاب کیا۔ یہ منگل کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد ان کا پہلا خطاب تھا۔ خطاب کے دوران نیتن یاہو نے جیت کا اعلان کیا اور نہ ہزیمت کا اقرار کیا۔ پولنگ مراکز سے باہر آنے والے ووٹروں کی آرا پر مبنی سروے رپورٹوں کے مطابق اس کانٹے دار انتخابی دوڑ میں کسی فریق کی جیت واضح نہیں۔

پولنگ کے اختتام کے بعد تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا "میں نے لیکوڈ پارٹی کے تمام شرکاء کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ آئندہ دنوں میں ہم ایک طاقت ور صہیونی حکومت تشکیل دیں گے ،،، ہم صہیونیت دشمن حکومت نہیں بننے دیں گے"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہمیں حقیقی نتائج سامنے آنے تک انتظار کرنا ہو گا۔ ہمیں ایک طاقت ور ریاست کی ضرورت ہے اور ایک ایسی حکومت کی جو اسرائیلی عوام کے لیے ایک قومی ریاست کی پاسداری کرے اور اس کو تحفظ فراہم کرے"۔

دوسری جانب اسرائیل میں "بلیو اینڈ وائٹ" سیاسی جماعت کے سربراہ سابق جنرل بینی گینٹز نے قومی یک جہتی کی ایک وسیع حکومت تشکیل دیے جانے پر زور دیا ہے۔ یہ موقف پولنگ کے اختتام کے بعد جاری اُن سروے رپورٹوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا کہ لیکوڈ پارٹی اور بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کو حاصل ہونے والی نشستوں کی تعداد قریب قریب ہے۔

گینٹز نے سیاسی حریفوں سے مطالبہ کیا کہ ایک "اچھے اور مساوی معاشرے" کی خاطر تمام تر اختلافات کو ایک جانب کر دیا جائے۔

اسرائیل میں 22 ویں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی نشستوں کی تعداد کم ہو کر 30 تک رہ گئی ہے۔ اس کے مقابل بینی گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی نے 32 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ اس کے علاوہ عرب جماعتوں کے مشترکہ اتحاد کی نشستیں بڑھ کر 15 ہو گئی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی تاریخ میں عرب جماعتوں کی یہ ریکارڈ کامیابی ہے۔

نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں دائیں بازو کا اسرائیلی اتحاد 53 نشستیں اکٹھی کر کے حکومتی اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا کیوں کہ مرکز اور دائیں بازو کی جماعتوں کا اتحاد 59 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔

دوسری جانب سابق وزیر دفاع اور "اسرائیل بیتونا" پارٹی کے سربراہ ایوگدور لیبرمین نے یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے پر زور دیا ہے جس میں "ليكوڈ" اور "بلیو اینڈ وائٹ" دونوں جماعتیں شامل ہوں۔