.

عربی زبان کے وہ الفاظ ،جو متضاد معنی رکھتے ہیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی زبان میں اضداد سے مراد وہ الفاظ ہیں جو ایک ہی وقت میں ایک معنی کے علاوہ اس کے متضاد معنی کے بھی حامل ہوں۔ اسی لیے انھیں اضداد کا نام دیا گیا۔ اضداد مترادف کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

ابن فارس (وفات : 395 ہجری) اپنی کتاب ’’الصاحبي‘‘میں لکھتے ہیں کہ اضداد عربوں کے کلام میں شامل ایک عادت ہے۔ اس کے تحت دو متضاد امور کو ایک نام دے دیا جاتا ہے۔ شعری ضرورت کے ضمن میں اضداد کا سہارا لینے کا مقصد تاکید اور مبالغہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے اس سیاق میں وضع کی جانے والی تصنیفات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ عربی زبان میں تضاد کا معروف سبب کسی لفظ کے عام معنی میں اشتراک ہے۔ اسے کسی ایک شے میں اور اس کے برعکس بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ "الصريم" کا لفظ رات کے لیے اور ساتھ ہی دن کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ دو متضاد الفاظ کے درمیان ایک حرف یا ایک حرکت (زیر زبر پیش) کا فرق ہوتا ہے۔ مثلا "يَخْفِر" کا معنی بڑھانا ہے تو "يُخْفِر" کم کرنا یا ختم کرنا ہے۔

اسی طرح رعیب کا لفظ مرعوب زدہ اور خوف زدہ کے لیے بولا جاتا ہے ... ساتھ ہی یہ اس کی ضد بن کر اس بہادر کا معنی دیتا ہے جو دوسرے کو رعب میں لے آئے !

عربی زبان میں اضداد کی وجوہات میں عربوں کے لہجوں کا اختلاف بھی شامل ہے۔ مثلا "وثَبَ" کا معنی اُٹھ کھڑا ہونا ہے۔ تاہم بنی حِمیر کی لغت میں اس کا معنی بالکل برعکس یعنی "بیٹھ جانے" کے ہیں۔

عربی زبان کے قارئین کے درمیان اضداد کے حوالے سے وسیع پیمانے پر زیر گردش دو مشہور کتابیں ابن الانباری محمد بن القاسم (271 ہجری – 328 ہجری) کی "الأضداد في اللغة" اور اوب الطیب عبدالواحد بن علی الحلبی (وفات 351 ہجری) کی "الأضداد في كلام العرب" ہے۔ مذکورہ دونوں کتابوں میں ان سے ما قبل اضداد سے متعلق تمام مواد کو جمع کر دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس سلسلے میں ڈاکٹر انطونیوس بطرس کی کتاب (المعجم المفصل في الأضداد) کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کتاب کو مرتب کرنے میں عربی زبان کی تاریخ میں اضداد سے متعلق تمام کتابوں اور زبان کے واسطے وضع کی گئی درجنوں تصنیفات کا سہارا لیا گیا ہے۔ ان میں عربی شاعری کی لُغات ، دیوان اور قرآن کریم کی تفاسیر شامل ہیں۔ اس جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ عربی زبان کی مشہور اضداد میں ایک لفظ الأبتر ہے۔ اس کے دو متضاد معنی میں ایک کا مطلب روکنے والا اور دوسرے کا دینے والا ہے !

عربی زبان میں سُرخ کے لیے أحمر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ سفید ہو تب بھی وہ رجلٌ أحمر یعنی سُرخ آدمی بولا جاتا ہے۔ یہ بات منقول ہے کہ عربوں میں أسود وأحمر (سیاہ و سرُخ) کے الفاظ أسود وأبيض (سیاہ و سفید) سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

اسی طرح أخضر اپنے اصل معنی یعنی سبز کے علاوہ أسود یعنی سیاہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد سبز رنگ کی شدت ہے جو کثیف ہو جانے کی صورت میں گہرے پن میں سیاہ کا عکس دیتا ہے۔ اسی طرح أخضر کا لفظ متضاد معنی رکھتا ہے۔ اگر کسی انسان کی شرافت کی تعریف کی جائے تو اسے (رجل أخضر) کہا جاتا ہے اور اگر کوئی کمینے پن کا مظاہرہ کرے تب وہ (رجل أخضر) ہو گا۔ اس لیے کہ عربوں کے ہاں (الخضرہ) کا ایک معنی کمینہ پن ہے۔

عربی کی مشہور اضداد میں أخفى کا لفظ بھی ہے۔ یہ روپوشی کے معنی میں آتا ہے اور اگر کوئی نمودار ہو کر سامنے آیا تب بھی اس کے لیے أخفى کا لفظ استعمال ہوتا ہے !

اضداد میں (جبر) کا لفظ بھی ہے۔ یہ بادشاہ کے لیے بولا جاتا ہے اور غلام کے لیے بھی جبر استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں شِمتُ کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ تلوار کے چھپائے جانے پر کہا جاتا ہے( شمت السيف) اور اسی طرح اس کا معنی نیام سے باہر نکالا جانا بھی ہے۔


علاوہ ازیں (كأس) کا مشہور لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ یہ برتن (گلاس) کے لیے بولا جاتا ہے اور ساتھ ہی اُس شے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو (كأس) کے اندر موجود ہو۔

یہاں تک کہ (كانَ) کا لفط بھی اضداد میں سے ہے۔ بعض شعری روایتوں میں یہ ماضی کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور مستقبل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ (بَعد) کا لفظ تاخیر کے معنی میں آتا ہے اور بعض مرتبہ قَبل کے معنی میں ! اسی طرح لفظ (بعض) کا معنی جُز بھی ہے اور (بعض) کا معنی کُل بھی ہے۔

عربی زبان (الدائم) کا لفظ میں ٹھہرے ہوئے کے لیے بھی آتا ہے اور متحرّک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح (الدّسيمُ) کا معنی قلیل الذکر بھی ہے اور کثیر الذکر بھی ہے۔ عربی میں (دونَ) اس شے کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو نیچے ہو اور اس کے لیے بھی جو اوپر ہو !

اضداد کے دل چسپ پہلو میں (فازَ) کا لفظ بچنے کا معنی بھی دیتا ہے اور یہ ہلاک ہونے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ! ... اسی طرح (فَزِعَ) کا لفظ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو مدد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہو اور اس شخص کے لیے بھی جو کسی کی مدد کرے۔ عربی میں (وما) کا لفظ کسی چیز کی تاکید کے لیے بولا جاتا ہے اور (وما) نفی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

عربی میں (المأتم) کا لفظ غم کے واسطے جمع ہونے والی خواتین کے لیے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف خوشی کی تقریب میں اکٹھا ہونے والی خواتین کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

دل چسپ اضداد میں (ضاع) کا لفظ کھو دینے کے لیے آتا ہے اور ساتھ ہی یہ لفظ ظاہر ہونے اور سامنے آنے کا معنی بھی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ عربی میں خود (ضِد) کا لفظ بھی دو متضاد معنی دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے (ضدّي) یعنی میرے مقابل اور میرے خلاف ... اور دوسری طرف (ضدّي) کا معنی "میرا جیسا" ہے۔ اسی طرح (الطاعم) کھانا پیش کرنے والا ہے اور (الطاعم) کھانا طلب کرنے والا بھی ہے۔


عربی میں (وراء) کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ اس کا معنی کسی شے کے پیچھے ہونا ہے اور دوسری طرف اس کا معنی آگے ہونا بھی ہے۔ اسی طرح (الوصيّ) وہ جو نصیحت یا وصیت کرے اور ساتھ ہی (الوصي) وہ ہے جس کو نصیحت یا وصیت کی جائے۔ عربی میں (أرجأ) کا معنی پیداوار کا وقت قریب آنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب کسی امر میں تاخیر ہو تو اس کا معنی بھی (أرجأ) کا لفظ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں (الحذمُ) کا معنی تیزی سے چلنا ہے اور اس کے مقابل ہلکی رفتار سے چلنا بھی (الحذم) ہے۔ اضداد کی فہرست میں (حلّق) کا لفظ بھی شامل ہے۔ کنوئیں میں پانی نیچے چلے جانے پر بولا جاتا ہے (حلّق الماء في البئر) .. دوسری جانب پرندہ فضا میں بلند ہو تو اس کے لیے (حلّق الطائر) کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

عربی میں’صارخ‘ لفظ مدد کرنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور (صارخ) مدد طلب کرنے والا بھی ہے۔ اسی طرح (الغابر) کا لفظ گزرے ہوئے کے لیے بولا جاتا ہے اور یہ باقی رہنے کا معنی بھی دیتا ہے۔ عربی میں (الظنّ) کا لفظ شک یا گمان کے معنی میں بولا جاتا ہے اور دوسری جانب یہ یقین کے مترادف استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ (ندّ) کا لفظ مخالف یا متضاد ہونے کے معنی میں بولا جاتا ہے اور اسی طرح (ندّ) یکساں کے معنی میں بھی آتا ہے۔

عربی میں ’الورقة‘ کا لفظ شریف اور اعلی اخلاق کے مالک کے لیے استعمال ہوتا ہے تو دوسری جانب رکیک عادات اور طبیعت کے حامل کو بھی الورقة کہتے ہیں۔ لفظ (الساجد) کا معنی جھکا ہوا ہے اور (الساجد) تن کر کھڑا ہونے والا بھی ہے۔ اسی طرح (سليم) کا لفظ سلامتی فراہم کرنے والے آدمی کے لیے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف ڈسنے والا شخص بھی (سلیم) ہے ! ... عربی میں ’حَسِب‘ غیر یقینی کے معنی میں آتا ہے اور یہ ہی لفظ یقین کے اظہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔