.

ترکی شامی سرحد کے ساتھ علاقے میں کارروائی کے لیے تیار : صدر ایردوآن

امریکا نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں اس ماہ محفوظ زون نہیں بنایا تو ترکی یک طرفہ اقدامات کرسکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک شام کے ساتھ واقع اپنی جنوبی سرحد پر کارروائی کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے قبل ازیں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے اس ماہ کے دوران میں شام کے شمال مشرق میں مجوزہ ’محفوظ علاقہ‘ قائم نہیں کیا تو ترکی یک طرفہ اقدامات کرسکتا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز استنبول میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سرحدی علاقے میں ہماری تیاریاں مکمل ہیں۔‘‘

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شامل ترکی اور اس کے اتحادی امریکا نے شام کے سرحدی علاقے میں مشترکہ گشت شروع کررکھا ہے لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ امریکا سرحدی علاقے سے شامی کرد فورسز کو پیچھے دھکیلنے اور ایک محفوظ زون کے قیام کے لیے سست روی سے اقدامات کررہا ہے۔

ترکی امریکا کی جانب سے کردملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کی عسکری امداد پر نالاں ہے۔ ترکی اس اتحاد میں بالادست عسکری قوت کردملیشیا وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انھیں شام کے چار سو کلومیٹر طویل سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹا دیا جائے اور دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا جائے۔

تاہم وائی پی جی کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز کا کہنا ہے کہ وہ بعض علاقوں میں صرف چودہ کلومیٹر تک پیچھے ہٹیں گے جبکہ ترکی کا موقف ہے کہ امریکا نے شام کے اندر بتیس کلومیٹر تک علاقے میں محفوظ زون کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔

صدر ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا سے اپنی اس شکایت کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کرد جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم امریکا کے آمنے سامنے نہیں آنا چاہتے ہیں لیکن ہم امریکا کی جانب سے ایک دہشت گرد تنظیم کی امداد کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے۔‘‘

صدر ایردوآن کے سرحدی علاقے میں کارروائی کی تیاریوں سے متعلق اس بیان سے دو روز قبل ہی سکیورٹی ذرائع نے یہ اطلاع دی تھی کہ ترکی کے جنوبی صوبوں میں ڈاکٹروں کو تعینات کردیا گیا ہے اور ان کی یہ تعیناتی شام میں ممکنہ دخول اور کارروائی کی تیاریوں کے ضمن میں کی گئی ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور انھیں ایک طویل عرصے کےلیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ترکی 2016ء کے بعد شام میں دو مرتبہ عسکری دراندازی کرچکا ہے اور اس کی فوجوں نے دریائے فرات کے مغربی کنارے میں داعش کے جنگجوؤں اور وائی پی جی کی فورسز کو اپنی کارروائیوں میں نشانہ بنایا تھا۔