.

اسرائیلی صدر کی نیتن یاہو کو ایک مرتبہ پھر حکومت سازی کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی صدر ریووین ریولین نے بنیامین نیتن یاہو کو پانچویں مدت کے لیے وزیراعظم نامزد کرکے ایک مرتبہ پھر نئی حکومت کی تشکیل کی دعوت دی ہے۔

نیتن یاہو کی اپنے سیاسی حریف بینی گانتز کے ساتھ شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت نئی حکومت کی تشکیل کے لیے بات چیت ناکامی سے دوچار ہوگئی ہے۔ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ گذشتہ ہفتے اسرائیل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں کوئی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

اب اسرائیلی وزیراعظم کے لیے کوئی واضح راستہ نہیں ہے اور ان کے پانچویں مدت کے لیے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن نہیں ہیں۔لیکوڈ پارٹی کے زیر قیادت دائیں بازو اور یہود کی مذہبی جماعتوں کے بلاک کو اب بھی 120 ارکان پر مشتمل پارلیمان میں سادہ اکثریت کے لیے مزید چھے نشستوں کی حمایت درکار ہے۔

اسرائیلی صدر نے بدھ کو ایک براہ راست ٹی وی نشریے میں نیتن یاہو کو وزیراعظم نامزد کیا ہے اور انھیں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اٹھائیس دن کی مہلت دی ہے۔اگر وہ اس مدت میں حکومت سازی میں ناکام رہتے ہیں تو انھیں مزید چودہ دن کی مہلت بھی مل سکتی ہے۔

اسرائیل کی موجودہ سیاسی صورت حال میں سابق وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین کو بادشاہ گر کا کردار حاصل ہوگیا ہے۔ لائبرمین کے زیر قیادت سیکولر قوم پرست یسرائیل پارٹی نے گذشتہ منگل کے روز منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی حمایت سے نیتن یاہو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن انھوں نے گذشتہ اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں نیتن یاہو یا بینی گانتز میں سے کسی کی بھی وزارت عظمیٰ کے لیے حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لائبرمین اپنی جماعت ، نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکوڈ اور گانتز کی وسطی رجحانات کی حامل ’بلیو اور وائٹ‘ پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل پر زور دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ فی الوقت تو نیتن یاہو کی نئی حکومت کی تشکیل کے لیے حمایت نہیں کرتے کیونکہ وہ اسرائیل کے الٹرا آرتھو ڈکس یہود کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بہ قول یہ مذہبی جماعتیں اسرائیل کے سیکولر نظریات کے حامل عوام پر مذہبی قوانین نافذ کرنا چاہتی ہیں۔